ابنا: حسين حقاني کے وکيل کاکہناہے کہ ان کے موکل کے بليک بيري فون سيٹ لاپتا ہيںجسٹس فائزعيس?ي کي سربراہي ميں ميموگيٹ کميشن کا اجلاس اسلام اباد ميں ہوا. منصوراعجازکے وکيل اکرم شيخ نے کہاکہ ان کے موکل کو دھمکياں دي جارہي ہيں.سيکيورٹي انتظامات پر فوکل پرسن فوج کا ہونا چاہيے تھا ، منصوراعجازائے تو ان کے پاس شواہد 10 منٹ ميں ضائع کئے جانے کا امکان ہے،
وزيراعظم اور وزيرداخلہ کے بيانات منصوراعجاز کے انے ميں رکاوٹ ہيں. جسٹس فائزعيسي نے کہاکہ کميشن کي کارروائي جاري ہے تو پھر ہر کوئي کيوں تبصرہ کررہا ہے، جسٹس فائز عيسي نے کہاکہ دنيا بھر ميں انکوائري ہوتي ہے ، ہمارے ہاں اسے تماشا بناياجاتا ہے، ہم منصور اعجازکي سيکيورٹي يقيني بنانا چاہتے ہيں.کسي کو کميشن احکامات پسند نہيں تو اس کيلئے فورم موجود ہے، حسين حقاني کے وکيل زاہدبخاري نے دلائل ميں کہاکہ منصوراعجاز کا حق بيان منسوخ کيا جائے، کميشن طے کردہ وقت کے اندر اپني رپورٹ دے،کميشن نے کہاکہ حقيقت سامنے انے پر ہي فائنڈنگ دي جائے گي، ايک درخواست گزار بيرسٹر ظفراللہ نے منصوراعجاز کا بيرون ملک بيان کرنے کي مخالفت کي اور کہاکہ ائي ايس ائي چيف کے بيان ميں کہاگياکہ منصوراعجاز نے سچ کہا، کميشن دوسروں کي گواہي لے لے، ديگر درخواست گزاروں نوازشريف ، غوث علي شاہ، راجا فاروق حيدر کے وکلاء اور پٹيشنر طارق اسد نے کميشن کے بيرون ملک جاکر منصور کا بيان کرنے کي حمايت کي، زاہدبخاري نے حقاني کے بليک بيري سيٹ سے جواب ميں کہاکہ سيٹ ، سفارتخانہ کي رقم سے خريدے گئے، حقاني انہيں سفارتخانہ ميں چھوڑ ا?ئے تھے، انہوں نے اب خط لکھ کر سيٹ تلاش کرنے کا کہاہے، اٹارني جنرل نے بتاياکہ رحمان ملک تين بجے پيش ہوجائيں گے، اس پر کميشن کي کارروائي ميں ڈھائي بجے تک وقفہ کرديا گيا. ........
/169