ابنا: سانحہ خان پور شیعہ سنی مسئلہ نہیں بلکہ ایسے چند شرپسند عناصر کی بھیانک کارستانی ہے جو مذہبی لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی کررہے ہیں۔ ان حالات میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنا دفاع خود کرنے پر غور کررہی ہے لیکن ابھی حکومت کے پاس وقت ہے کہ وہ دہشت گردوں کو اپنے انجام تک پہنچائے اور اس سانحہ کو ٹیسٹ کیس بناکر اصل مجرموں اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب کرے۔سانحہ خانپور میں درجنوں عزاداروں کی شہادت پر پوری پاکستانی قوم سوگوار ہے اور 20 جنوری جمعة المبارک کو پورے ملک میں یوم احتجاج منایا جائے گا
ملتان میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ خانپور کے جلوس میں جب راستے کو کلیئر کردیا گیا تو پھر بم کیسے نصب ہوا؟ علم مبارک کے برقی تاروں سے ٹکرانے کے بعد دھماکے کے بیانات دہشت گردی سے رخ موڑنے کے لئے دیئے گئے۔ہم نے وزیر اعلی پنجاب' ہوم سیکریٹری اور آئی جی پولیس پنجاب پر واضح کیا ہے کہ وہ اس واقعہ کو ٹیسٹ کیس بناکر اصل مجرموں پر ہاتھ ڈالیں اور انکے سرپرستوں کو بھی بے نقاب کیا جائے کہ دہشت گرد کس کے سہارے پر کام کررہے ہیں کیونکہ گذشتہ کئی عشروں سے کسی ایک قاتل کو بھی سزا نہیں ملی روزانہ گرفتاریوں کے ڈرامے رچائے جاتے ہیں۔ 86 قاتلوں کی سپریم کورٹ اپیلیں مسترد کرچکی ہے مگر ان کی سزائوں پر دستخط نہیں کئے جارہے۔ آخر انہیں سزائوں سے کیوں بچایا جارہا ہے
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ملک میں تمام اسلامی مکاتب فکر کے مابین اتحاد و وحدت کی فضا موجود ہے۔مٹھی بھر شرپسند دہشت گردوں کا کسی مکتب و مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔موجودہ صورت حال اور دگرگوں حالات میں عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان دہشتگردوں کے پشت پناہ کون ہیں' ان کے نیٹ ورک کو کیوں نہیں توڑا جاسکا اور دہشت گردی کے خطرے کے نام پر عوام کے آئینی'مذہبی اور شہری حقوق کیوں چھینے جارہے ہیں.
........
/169