15 دسمبر 2011 - 20:30

کل (جمعرات کو) ابوصبیع کے علاقے میں احتجاجی مظاہرے پر آل خلیفہ اور قابض آل سعود کے جلادوں نے حملہ کیا اور خلیفی پولیس نے بحرینی نوجوان "علی احمد رضی القصاب" کو گاڑی سے کچل کر شہید کردیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے تمام شہروں اور قصبوں میں خلیفی حکمرانوں کے خلاف احتجاجی جلوسوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔پرسوں رات اور کل صبح کو "السنابس"، "جدحفص"، "الدراز" اور "ابوصبیع" کے علاقوں میں عوام نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا؛ وہ آل خلیفہ کی حکمرانی کی مخالفت میں نعرے لگا رہے تھے اور اپنے نعروں میں بادشاہ اور ان کے خاندان کے زوال پر زور دے رہے تھے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بحرین کی انقلابی خواتین نے دارالحکومت منامہ میں برطانوی سفارتخانے کے سامنے دھرنا دے کر بوڑھے استعمار کی پالیسیوں اور برطانوی بادشاہی حکومت کی جانب سے بحرینی بادشاہی حکومت کی ہمہ جہت اور بلاجواز حمایت پر احتجاج کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس احتجاجی دھرنے میں "رأس الرمان" نامی شہر کی خواتین نے شرکت کی۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے آل خلیفہ کی ہمہ جہت حمایت اور خلیفیوں کے ہاتھوں پر امن مظاہرین کو جبر و تشدد کے ذریعے کچلنے پر مجرمانہ خاموشی بحرینی عوام کے وسیع رد عمل کا سبب بن رہی ہے۔ ابوصبیع کے علاقے میں عوامی مظاہروں میں آل خلیفہ اور آل سعود کے گماشتوں نے مداخلت کی اور آنسو گیس نیز زہریلی گیس اور "قاتل گاڑیوں" کو استعمال کیا گیا اور متعدد افراد زخمی اور کئی ایک کو سانس کی تکلیف لاحق ہوئی جبکہ ایک "علی احمد رضی القصاب" نوجوان کو گاڑی کے ذریعے ٹکر ماری گئی اور ان کا جسم گاڑی سے کچلا گیا جس سے ان کی شہادت واقع ہوئی۔ اور یوں بحرین کے انقلاب کرامت کی تعداد 54 ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق شہید القصاب زخموں کی شدت اور خلیفی فورسز کی طرف سے عوام کو ان کی اسپتال منتقلی سے روکنے کے سبب شہید ہوگئے ہیں۔اعلان کیا گیا تھا کہ شہید کی میت آج اٹھے گی اور عوام نے بھی شارع البدیع میں جلوس جنازہ میں شرکت کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن جلوس جنازہ کے آئے ہوئے عوام پر آل سعود اور آل خلیفہ کے گماشتوں نے حملہ کیا اور کئی افراد کو زخمی کیا جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آج صبح ابوصبیع اور الشاخورہ کے عوام نے زبردست مظاہرے کئے اور آل سعود - آل خلیفہ کے جلادوں کی طرف سے پر تشدد کاروائیوں کا نشانہ بنے۔بہرصورت آل خلیفہ نے بحرینی شہید کی میت ان کے ورثاء کی تحویل میں دینے سے انکار کردیا اور ایک نوجوان کو شدید زخمی کردیا ہے جن کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ آل خلیفہ کے ان حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن کو خلیفی و سعودی جلادوں کے قبضے کی وجہ سے اسپتالوں میں منتقل کرنے کا امکان نہیں ہے چنانچہ بحرین کے انقلابی اتحاد نے ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس سے اپیل کی ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج کے لئے ابوصبیع اور الشاخورہ نامی قصبوں میں چلے جائیں۔اطلاعات کے مطابق خلیفی فورسز نے آج شام کے وقت بحرین کے درجنوں باشندے گرفتار کرلئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110