23 نومبر 2011 - 20:30

اسلام آباد…سپریم کورٹ میں این آر او نظرثانی کیس میں وفاق کے نامزد وکیل بابراعوان کی طرف دلائل پیش کرنے کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔

ابنا: چیف جسٹس افتخارچودھری نے سابق وزیراعظم بینظیربھٹو کی کتاب کو حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ محترمہ کو این آر او میں دلچسپی نہیں تھی، وہ کوئی اور تھا جو صدر بننا چاہتا تھا چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی فل کورٹ نے این آر او نظرثانی کیس کی سماعت کی،بابراعوان نے کہاکہ این آر او کا جو فیصلہ آیا اسکی استدعا درخواستوں میں نہیں ہوئی تھی ،بنیادی کیس میں اٹارنی جنرل نے کہاتھاکہ وسیع تر امور آئے تو وہ الگ سے بات کریں گے،چیف جسٹس نے کہاکہ چار دن سے فل کورٹ بیٹھی ہے،بتائیں تو سہی وہ وسیع تر امور کیا ہیں، ابھی تک نظرثانی کی گراوٴنڈز نہیں بتائے، چیف جسٹس نے ریمارکس میں بابراعوان کو کہاکہ آپ بینظیر بھٹو کو اس کاغذ سے نتھی کررہے ہیں، وہ قدآور شخصیت تھیں، انہوں نے اپنی کتاب میں لکھاکہ وہ اس قانون میں دلچسپی نہیں رکھتی تھیں ، این آر او جنرل مشرف چاہتا تھا، وہ ایسے باپ کی بیٹی تھی جس نے کسی غلط کام کو تسلیم نہیں کیا، چیف جسٹس نے کہاکہ جو خودکو قانون سے بالا سمجھتے تھے ان کے مقدمات اس عدالتی فیصلے سے کھلے،این آر او کے فیصلے پر وفاق نے فخر کیاکیا یوسف رضا گیلانی اس قانون کا فائدہ نہیں لے سکتے تھے، وزیر داخلہ نے ٹرائل کا سامنا کیا، پارلیمنٹ نے این آر او کو برا قانون کہا اور منظور نہ کیا، چیف جسٹس نے کہاکہ وفاق وہ ہے جو بدبودار قانون کی حمایت نہ کرے، ،اب تو این آر او جاری کرانے والے بھی پچھتا رہے ہوں گے، وقفہ سے قبل بابراعوان نے کچھ دستاویز پیش کرنا چاہے تو عدالت نے روک دیا اور کہاکہ طے اصول ہے کہ نظرثانی سطح پر ایسا نہیں ہوسکتا۔ 
........

/169