16 نومبر 2011 - 20:30

ايران کي انساني حقوق کميٹي کے سيکريٹري نے صہبوني لابي کو ايران کے خلاف امريکي دباؤ کا ذمہ دار قرار ديا ہے-

ابنا: ايران کي انساني حقوق کميٹي کے سيکريٹري محمد جواد لاريجاني نے جو اقوام متحدہ کي انساني حقوق کونسل کے اجلاس ميں شرکت کے لئے نيويارک گئے ہوئے ہيں، امريکي ذرائع ابلاغ سے بات چيت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائيل چاہتا ہے کہ امريکہ ايران کے خلاف دباؤ برقرار رکھے يہاں تک کہ فوجي کاروائي بھي کرے-

محمد جواد لاريجاني نے واشنگٹن ميں سعودي سفير پر قاتلانہ حملے کي منصوبہ بندي کے الزام کے بار ےميں کہا کہ سعودي حکام کو پوري طرح ہوشيار رہنا چاہيے کيونکہ امريکي حکام اپنے تمام منصوبوں اور ايران کے خلاف کئے جانے والے تمام تر دعوں ميں صرف اپنے مفادات کي فکر ميں رہتے ہيں-

انہوں نے کہا کہ ايسا ہرگز نہيں ہے کہ امريکي حکام يہ الزام سعودي عرب کے مفادات کے تحفظ کے لئے لگا رہے ہيں-

ڈاکٹر لاريجاني نے واضح کيا کہ سعودي عرب کو معلوم ہونا چاہيے کہ ايران کے خلاف امريکہ کي اشتعال انگيزياں مکمل طور سے ايک اسٹريٹيجک جال ہے اور امريکہ کو خطے ميں صرف صہيوني حکومت کے مفادات کي فکر لاحق ہے- ايران کي انساني حقوق کميٹي کے سيکريٹري نے کہا کہ جمہوريت کے دفاع کے حوالے سے امريکہ کا ريکارڈ انتہائي خراب ہے کيونکہ خطے کي عوامي تحريکوں ميں ، خاص کر بحرين اور يمن جيسے ملکوں ميں جو کچھ دکھائي دے رہا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ امريکہ انساني حقوق اور جمہوريت کا پابند نہيں ہے-

ادھر اقوام متحدہ ميں ايران کے نمائندے نے کہا ہے کہ سعودي عرب کے سفير کے خلاف قاتلانہ حملے کي منصوبہ بندي کے بارے ميں امريکہ کي پيش کردہ دستاويزات محض دعوے ہيں - امريکہ اور سعودي عرب کي درخواست پر ايران کے خلاف قرار داد کي منظوري کي غرض سے اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے اجلاس کے بعد صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے محمد خزاعي نے کہا کہ اس اجلاس ميں شريک ملکوں کے نمائندوں کے سامنے امريکي نمائندے پر واضح کرديا کہ جو دستاويزات تم ايران کو فراہم کرنے کا دعوي کرر ہے ہو وہ نيويارک کي عدالت سے جاري ہونے والے دعوے کے چند صفحے ہيں جو بيک وقت عالمي انٹرنيٹ چينل پر جاري کئے جاچکے ہيں-

ايران کے نمائندے نے سعودي عرب کے سفير کے خلاف قاتلانہ حملے کے منصوبے کے الزام کے پس پردہ امريکي مقاصد کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس ميں بھي ديگر اجلاسوں کي مانند ايران اور ايراني حکومت کے اداروں کے کسي بھي دہشتگردانہ حملوں ميں ملوث ہونے کے امريکي دعووں کو سختي کے ساتھ مسترد کرديا گيا ہے-

ايران کے نمائندے نے تمام ہمسايہ ملکوں اور خاص کر مسلم ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے قيام کو ايران کي خارجہ پاليسي کا بنيادي ستون قرار ديتے ہوئے کہا کہ دوستي اور پرامن بقائے باہمي کا اصول شروع ہي سے ايران کي خارجہ پاليسي ميں سرفہرست رہا اور اس ميں کوئي تبديلي نہيں آئي ہے- ..............

/169