5 نومبر 2011 - 20:30

یورپ کے ذرائع ابلاغ نے ان دنوں ایران کے خلاف ایک نئی تشہیراتی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ اور یہ کہنا شروع کردیا ہےکہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اپنی نئی رپورٹ میں ایسے ثبوت پیش کرے گی جن کی رو سے اس ایجنسی کے نزدیک ایران غیر معمولی ایٹمی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

ابنا: ایران کے خلاف اس طرح کی تشہیراتی مہم کوئي نئی بات نہیں ہے کیونکہ ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کی اس سےپہلے والی رپورٹ میں بھی اسی سے ملتا جلتا دعوی بغیر کسی ثبوت کے پیش کیا گيا تھا جسے یورپی ذرائع ابلاغ نے ایران کے خلاف بڑے شد و مد کے ساتھ اچھالا تھا۔ ایران اس طرح کی رپورٹوں کے سلسلے میں بارہا ضروری جواب دے چکا ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی مقاصدکے تحت ایران کے خلاف یورپ کا پروپیگنڈہ بدستور جاری ہے۔ یورپ کے بعض ذرائع ابلاغ کو ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کی نام نہاد خفیہ رپورٹوں کے جاری ہونے سے پہلے ہی ان تک دسترسی حاصل ہوتی ہے اس بار بھی ان ذرائع ابلاغ نے اس رپورٹ کے مندرجات کے بارے میں سرخیاں شائع کی ہیں۔ اور اس بات کا دعوی کیا ہے کہ یوکیا آمانو کی رپورٹ میں ایسے تجربات کی جانب اشارہ کیا جاۓ گا جن کے دوران ایران نے قوی دھماکہ خیز مواد کے تجربات کۓ ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہےکہ ایران پر جو ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگایا جارہا ہے اس میں کس حد تک وزن پایا جاتا ہے؟ اگر کوئی ایک ملک یا چند ملک بقول یوکیا آمانو کے کچھ اطلاعات ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو فراہم کریں تو کیا صرف ان کی بنیاد پر اور خود ان اطلاعات کی صحت کو پرکھے بغیر کسی ملک کے ایٹمی پروگرام میں انحراف کا دعوی کیا جاسکتا ہے؟ اس میں شک نہیں کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ کی کچھ ذمےداریاں اور فرائض ہیں جوکہ ایٹمی معاہدوں میں مندرج اصولوں کے مطابق ہونے چاہیئیں لیکن قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ ایران کے بارے میں جن ثبوتوں کا دعوی کیا جارہا ہے وہ پہلی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور بقول یوکیا آمانو کے یہ ثبوت امریکہ جیسے بعض ممالک کے موہوم مطالعات تک محدود ہیں کہ جو ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو پیش کۓ گۓ ہیں۔ اس سلسلے میں دوسرا سوال یہ ہے کہ جب محمد البرادعی ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ تھے تو اس وقت اس ایجنسی کی رپورٹوں میں باقاعدگی کے ساتھ یہ بات ذکر کی جاتی تھی کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں جو دعوے کۓ گۓ ہیں ان کے صحیح ہونے کے بارے میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی مطمئن نہیں ہے ۔ لیکن ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ کی تبدیلی کے بعد اس ایجنسی نے سیاست سے کام لیتے ہوۓ اپنا رویہ بھی بدل دیا ہے حالانکہ اگر یہ ایجنسی واقعی غیر جانبدار ہے تو اسے اپنے فرائض پیشہ ورانہ طور پر انجام دینے چاہئيں ۔ ایران کے خلاف کۓ جانے والے دعوے کے بارے میں یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ایران پر ان ممالک نے الزام لگاۓ ہیں جن کا اپنا نامۂ اعمال ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے لۓ خطرہ ہونے جیسے جرائم سے بھرا پڑا ہے اوریہ بات دنیا والوں سے پوشیدہ بھی نہیں ہے ۔ آج اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بتیس برسوں کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے ساتھ عالمی طاقتوں کی دشمنی کی وجہ یہ ہے کہ ان طاقتوں کو اس بات پر شدید تشویش لاحق ہے کہ ایران دوسرے ممالک کے لۓ نمونۂ عمل بنتا جارہا ہے۔

 .............. /169