ابنا: نبیل رجب نے کہا کہ انسانی حقوق کی بحرینی اور عالمی تنظیموں کی کوششوں سے بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس عالمی انسانی حقوق ادارے نے لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرین میں انسانی حقوق کے بارے میں سب سے اہم رکاوٹ بعض بڑی طاقتوں کی دوغلی پالیسیاں ہیں، ان کا اشارہ امریکہ مغربی اور بعض عرب ملکوں کی جانب سے آل خلیفہ کی بے دریغ حمایتوں کی طرف ہے جو آل خلیفہ کی تشدد آمیز پالیسیوں کی کھلم کھلا حمایت کررہے ہیں۔ ان دنوں آل خلیفہ کے کارندوں نے زخمی انقلابیوں کا علاج کرنے والوں ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کو گرفتار کرکے پانچ سے پندرہ برس کی قید کی سزا سنائي ہے ۔ زخمیوں کا علاج کرنے کی پاداش میں طبی عملے کو لمبی قید کی سزائيں دینا انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قراردیا گيا ہے۔ یہ ڈاکٹر اور نرسیں سلیمانیہ اسپتال میں کام کرتے تھے۔ عالمی اداروں بالخصوص ان اداروں سے وابستہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نے آل خلیفہ کے اس غیر انسانی اقدام پر خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ بحرین کے ڈاکٹروں اور نرسوں نے عالمی اداورں کی خاموشی کےباوجود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو ایک خط بھیج کر مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریوں پرعمل کرے۔ بحرین کے مظلوم ڈاکٹروں کے خط میں آیا ہے کہ ہم نے قسم کھائي ہے کہ اپنے پیشے کے مطابق زحمیوں کی مددکریں اور انسانوں کی جان بچائيں۔ لیکن ہمیں آل خلیفہ کی جانب سے تشدد اور غیر منصفانہ رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ بحرین کی حکومت نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو گرفتار کرکے جسمانی ایذائيں پہنچانے اور انہیں لمبی مدت تک قید کی سزا سنانے کے علاوہ گذشتہ دنوں میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شریک خواتیں کو بھی گرفتار کرلیا ہے ، یاد رہے یہ مظاہرے نہایت پرامن طریقے سے کئے گئےتھے۔ آل خلفیہ کے اس گھناونے اقدام پر پورے بحرین میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئي ہے۔ جمعیت الوفاق کے رہنما جمیل کاظم نے عورتوں کی گرفتاری کو انسانیت کے دامن پر بدنما داغ قراردیا ہے۔ ادھر بحرین کے بزرگ عالم دین آیت ا للہ شیخ عیسی قاسم نے کہا ہےکہ منامہ حکومت تشدد ڈھا کر ملت بحرین کو گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے برحق مطالبات سےدستبردار ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ کی تشدد آمیز پالیسیوں کا نتیجہ اب تک الٹا ہی نکلا ہے کیونکہ ہمارے عوام متحد ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ جب تک آل خلیفہ کی حکومت کا خاتمہ نہیں کرلیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ادھر بحرین کے ایک انقلابی دھڑے نے بیان جاری کرکے سٹیلائٹ چینلوں سے کہا ہے کہ وہ آل خلیفہ کے جرائم سے پردہ اٹھائيں اور اس حکومت کے انسانیت سوز اقدامات سے دنیا کو آگاہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ملت بحرین کی صدائے احتجاج دنیا والوں تک پہنچنی چاہیے۔............ /169
2 اکتوبر 2011 - 20:30
News ID: 269475
بحرین میں انسانی حقوق کے مرکز کے سربراہ نبیل رجب نے منامہ حکومت کے ہاتھوں بار بار انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت کو الگ تھلگ کردیا جانا چاہیے۔