ابنا: ارناکی رپورٹ کےمطابق صدراحمدی نژاد نےاپنےدورہ نیویارک کےچوتھےدن جمعہ اورسنیچرکی درمیانی شب ایک پریس کانفرنس میں ملت فلسطین کےاقتداراعلی کی حمایت کرتےہوئےیورےنیم کی افزودگی کوآئی اےای اے کےرکن تمام ملکوں کاحق قراردیااورکہاکہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں آئی اےای اے کی براہ راست نگرانی میں ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران کےصدر نےاس بات کی وضاحت کرتےہوئےکہ سلامتی کونسل نےاپنی ذمہ داری بخوبی نہيں نبھائي افسوس ظاہرکیااورکہاکہ اس ادارےکےڈھانچےمیں ہی مسئلہ ہے۔صدراحمدی نژاد نےکہاکہ سلامتی کونسل زیادہ ترامریکہ اورچند مغربی ملکوں کےاختیارمیں ہے اورہميں یہ امید بھی نہيں ہےکہ سلامتی کونسل قوموں کےحق کادفاع کرپائےگی کیونکہ اس میں اس کی صلاحیت ہی نہيں ہے۔صدرمملکت نےایران کوایک امن پسند ملک قراردیتےہوئےکہاکہ ہم آزادی ، انصاف اورتمام قوموں کےحقوق کااحترام کرتےہیں لیکن اس کےساتھ ہی اس بات پربھی یقین رکھتےہیں کہ یہ حقوق نیٹوکےبموں اورمیزائلوں نیزاغیارکی مداخلت سےحاصل نہيں ہوں گے۔صدرمملکت نےاسلامی بیداری کی لہرکی جانب اشارہ کرتےہوئےمغرب پرعوامی تحریک کوہائی جیک کرنےکاالزام لگایااوراس بات پراطمینان ظاہرکرتےہوئےکہ بیداری کی لہریورپ تک بھی پہنچےگی کہاکہ دنیاکی تمام قوموں کی مشارکت ہی انسانی معاشرےکےمسائل سےنکلنےکاواحد راستہ ہے۔..............
/169