ابنا: امریکی کانگرس کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں پینٹاگون نے کہا ہے کہ چین نے اپنی بحری طاقت کو بڑھانے پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور وہ جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے ذریعے بحرالکاہل پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پینٹاگون نے اپنی رپورٹ میں چین کی فوجی ترقی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ سنہ دو ہزار بیس تک چین کی ٹیکنالوجی اور دفاعی طاقت اس حد تک بڑھ جائے گي کہ وہ دنیا کی بڑی طاقتوں سے آگے نکل جائے گا اور طویل مدت میں بحرالکاہل پر امریکہ کا فوجی تسلط اور کنٹرول خطرے میں پڑ جائے گا۔
چین کو ایک عرصے سے چین کی بڑھتی ہوئي فوجی طاقت پر تشویش ہے۔ امریکی حکام یہ دعوی کرتے ہیں کہ بیس لاکھ سے زائد فوجیوں کے ساتھ چینی فوج کی تنظیم نو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران بیجنگ نے فوج کی تنظیم نو اور جدید ہتھیاروں کی تیاری پر دسیوں ارب ڈالر صرف کیے ہیں۔ چین کی جانب سے کروز میزائلوں اور راڈار پر نظر نہ آنے والے طیاروں کی تیاری ، خلائی جنگ کے میدان میں قدم اور آخرکار پہلے طیارہ بردار بحری جہاز کی تیاری نے امریکیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ البتہ اگر موازنہ کیا جائے تو چین فوجی لحاظ سے امریکہ سے کافی پیچھے ہے۔ مثال کے طور پر امریکی سالانہ تقریبا سات سو ارب ڈالر فوجی امور پر خرچ کرتے ہیں اور ان کے پاس جدید ہتھیاروں بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ جبکہ امریکہ کے مقابلے میں چین کا فوجی بجٹ نوے ارب ڈالر ہے۔ بحریہ کے شعبے میں بھی کہ جس پر پینٹاگون کے حکام نے حال ہی میں تشویش کا اظہار کیا ہے، اگر موازنہ کیا جائے تو امریکہ کے پاس دس طیارہ بردار بحری جہاز اور پچھتر آبدوزیں ہیں جبکہ چین کے پاس صرف ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور بہت کم تعداد میں آبدوزیں ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود امریکہ ہر اس امکان سے سخت خطرہ محسوس کرتا ہے کہ جو سمندر میں اس کی مطلق برتری کو خطرے میں ڈال دے۔ امریکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بحرالکاہل میں غیرمتنازعہ طاقت میں تبدیل ہو گيا حتی سوویت یونین بھی سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں سمندر خاص طور پر بحرالکاہل میں اس کے لیے خطرہ پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ لیکن اس وقت ایسا نظر آتا ہے کہ چین نے ایشیا کے مشرقی ساحلوں میں امریکہ کی بحری موجودگي کو چیلنج سے دوچار کرنے کے لیے قدم اٹھا لیا ہے۔ اس علاقے میں امریکہ جاپان جنوبی کوریا تائیوان اور خلیج مالاکا کے دفاع کے سلسلے میں اپنے اہم مفادات دیکھتا ہے۔ جبکہ اگر چین مشرقی ایشیا میں اپنی بحری موجودگي میں اضافہ کر دے تو اس علاقے میں امریکہ کی سیاسی و فوجی طاقت کے مظاہرے کی قوت کمزور ہو جائے گي۔ اسی بنا پر امریکی حکام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے نفسیاتی جنگ شروع کر کے چین کو علاقے کی بحری سلامتی کے لیے خطرہ ظاہر کیا جائے اس امید کے ساتھ کہ بیجنگ اپنی فوجی تعمیرنو میں کمی کر دے گا۔ البتہ چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت پر امریکہ ایک ایسے وقت میں تشویش ظاہر کر رہا ہے کہ جب واشنگٹن ہر روز پہلے سے زیادہ مالی اور اقتصادی امور میں بیجنگ سے وابستہ ہو رہا ہے۔.............
/169