اشارہ: حال ہی میں بعض نواصب کی جانب سے ایک ایمیل میسج بھیجا گیا جس میں عصمت ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کو مخدوش کرنے کے لئے ریحانۃ الرسول (ص) حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے موقع پر ایسے شبہے کو ہوا دی گئی ہے جو عباسی بادشاہ منصور دوانیقی کے دور سے سرکاری منشیوں اور مستوفیوں نے وضع کیا اور ہزاروں بار اس کا جواب دیا گیا لیکن عباسی اور اموی بادشاہتوں اور آج کے زمانے کے برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل کی پالیسی یہی رہی ہے کہ تہمتوں اور الزامات کو دہراؤ اور ان کے جواب پر کان مت دھرو حتی کہ تہمتوں کا نشانہ بننے والا شخص، نظام حکومت یا گروہ وغیرہ کے اپنے بہی خواہ بھی اس کی حقانیت میں شک کرنا شروع کردیں" چنانچہ امویوں کے دین کے پیروکار نہ صرف اس موضوع میں بلکہ تمام اعتقادی موضوعات میں تیرہ صدیاں پرانے بہتان دہراتے رہتے ہیں اور پیروان اہل بیت (ع) کی دل آزاری کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور دوسری طرف سے امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لئے اتحاد بین المسلمین پر وار کررہے ہیں۔ اس بار جو الزام اچھالا گیا ہے وہ یہ ہے کہ طلاق اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ فعل ہے لیکن امام حسن علیہ السلام نے نکاح اور طلاق کے حوالے سے معاذاللہ افراط کا راستہ چنا تھا۔ ہم نے تھوڑی سے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ بعض اپنے بھی اس بہتان سے متاثر ہوئے ہیں اور بعض نے تو اس کو امام علیہ السلام کے لئے باعث فخر گردانا ہے اور لکھا ہے کہ آپ (ع) نے 300 شادیاں کی ہیں جبکہ حقیقت میں آپ (ع) کی بائیس یا اکتیس اولادیں ہیں جو اس تشہیری مہم کی دستاویزات سے مغایرت رکھتی ہے۔بہرحال یہ ایک جعلی روایت ہے جو بعض مسلم مؤرخین نے جان کر یا انجانے میں نقل کی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ انھوں نے اس روایت کے بارے میں تحقیق کو ضروری نہیں سمجھا ہے اور اندھادھند انداز سے اسے نقل کرتے رہے ہیں حتی کہ آج اہل بیت (ع) کے دشمنوں نے اسے اہل بیت (ع) کی عدم عصمت کی دستاویز قرار دیا ہے اور یہ جاہل لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ جس فعل کی برائی کو یہ سمجھتے ہیں کیا سبط نبی (ص) اس کو سمجھنے سے قاصر تھے؟ اور جس کو رسول اللہ (ص) نے اپنا پھول اور سردار جوانان جنت قرار دیا ہے یہ اس کی شخصیت پر کیچڑ اچھال کر ان کی شان میں رسول اللہ (ص) سے منقولہ درجنوں احادیث شریفہ کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔یہ ان ہی موضوعات میں سے ہے کہ جاہلوں نے اسے اچھالا اور اسلام دشمن قوتوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جس طرح کہ ان ہی جاہلوں نے اسلامی روایات میں رسول اکرم (ص) کی نسبت بھی ایسے ہی جعلی افسانے شامل کئے جو بعد میں شیطانی آیات جیسی توہین آمیز کتابوں کی صورت میں برآمد ہوئیں اور اسلامیان عالم کی دل آزاری کا سبب بن گئے اور کفار نے بھی انہیں اسلام سے انتقام لینے کا وسیلہ قرار دیا۔ اور اکرم البستانی جیسوں نے بھی ان ہی روایات کا سہارا لے کر اسلام کی خوب خوب بے حرمتی کردی۔ امام حسن علیہ السلام اور تہمت طلاقبعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ امام حسن علیہ السلام پے درپے شادیاں کرتے اور طلاق دیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ اس حد تک جاری رہا کہ کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے کوفہ کے عوام سے فرمایا: اے اہل کوفہ! اپنے بیٹیاں میرے بیٹے حسن سے مت بیاہو کیونکہ وہ بہت زیادہ طلاق دینے والے ہیں! قبیلۂ ہمدان کے ایک فرد نے اٹھ کر کہا: ہم ان کو بیٹیاں دیں گے چاہے انہیں رکھ لیں چاہیں انہيں طلاق دیں۔ 1حالانکہ قبیلۂ ہمدان جدی پشتی شیعہ قبیلہ تھا اور اس قبیلے نے امام زمانہ (ع) کی غیبت کے بعد عراق میں پہلی شیعہ حکومت کی بنیاد رکھی تھی جو ایران میں علوی سادات اور آل بویہ کی شیعہ حکومتوں کی معاصر تھی۔
بہر حال یہ ایک بے بنیاد بہتان ہے اور اس کا حقیقت سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔ کیونکہ:1۔ یہ روایت ریحانۃ الرسول امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شان کے خلاف ہے۔2۔ یہ روایت اور اس قسم کی دیگر روایات تین ہی راویوں سے نقل ہوئی ہیں اور یہ تینوں غاصب عباسی حکمرانوں کے درباری کاتب یا مؤرخ تھے۔3۔ یہ روایات اگر درست ہوتیں تو بنو امیہ کے درباری اسے کیوں بھول گئے تھے اور عباسیوں کے دور میں کیوں سامنے آئیں؟4۔ عباسی بادشاہ منصور دوانیقی کے دور میں جب حسنی سادات نے اس کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تو امام حسن علیہ السلام کے خلاف زہر افشانی اسی سفاک اور غاصب بادشاہ کے حکم پر ہی شروع ہوئی اور نکاح و طلاق کثیر والی روایات بھی اسی سازش کے تحت وضع کی گئیں اور مقصد حسنیوں کی تحریک کو نقصان پہنچانا تھا۔ ابتداء میں ہم روایات اور تاریخی نقل کے سلسلے میں تحقیق کرتے ہیں اور اس کے بعد اس باعث شرم بہتان کا جواب دیتے ہیں۔ امام حسن مجتبی علیہ السلام کی متعدد شادیوں اور بار بار طلاق کی روایات کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:پہلا گروہ: اس گروہ میں وہ روایات نقل ہوئی ہیں جن میں متعدد شادیوں سے منع کیا گیا ہے اور اس حکم کے دلائل بیان ہوئے ہیں۔1۔ برقی نے محاسن نامی کتاب میں امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ "ایک آدمی امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں آپ کی خدمت میں اپنی بیٹی کے بارے میں مشورہ کرنے حاضر ہوا ہوں کیونکہ آپ کے بیٹے امام حسن اور امام حسین (ع) اور آپ کے بھتیجے عبداللہ بن جعفر (رض) اس کا رشتہ لے کر آئے ہیں، امیرالمؤمنین (ع) نے فرمایا: المستشار مؤتمن؛2 جان لو کہ امام حسن بیویوں کو طلاق دیا کرتے ہیں چنانچہ اپنی بیٹی کا رشتہ امام حسین سے کردو کیونکہ یا تماری بیٹی کے لئے بہتر ہے۔3 2۔ محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی سند سے عبداللہ بن سنان سے روایت کی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ایک روز امیرالمؤمنین علیہ السلام کوفہ کے منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا: میرے بیٹے حسن کو اپنی بیٹیوں کا رشتہ مت دیا کرو کیونکہ وہ بہت زیادہ طلاق دینے والے ہیں؛ اتنے میں قبیلہ ہمدان میں سے ایک مرد اٹھا اور کہا: ہاں! اللہ کی قسم کہ ہم اپنی بیٹیوں کی شادیاں امام حسن سے کرائیں گے کیونکہ وہ رسول اللہ (ص) اور امیرالمؤمنین (ع) کے فرزند ہیں؛ پس اگر وہ چاہیں تو ہماری بیٹیوں کو رکھ لیں چاہیں تو انہیں طلاق دیں۔4 روایات کا دوسرا گروہان روایات میں گویا امیرالمؤمنین علیہ السلام نے امام حسن کی متعدد شادیوں اور بار بار طلاق سے شدید تشویش ظاہر کی ہے:1۔ بلاذری نے ابو صالح ابوصالح سے روایت کی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: حسن نے اتنی شادیاں کیں اور طلاقیں دیں کہ مجھے خوف لاحق ہوا کہ کہیں ان کا یہ عمل ہمارے لئے دشمنیاں پیدا نہ کرے!۔52۔ سیوطى نے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے روایت کی ہے: حسن علیہ السلام شادیاں کرتے اور طلاق دیتے یہاں تک کہ میں فکرمند ہوا کہ کہیں قبائل اور اقوام کی جانب سے ہمیں کوئی دشمنی نہ پہنچے!۔63۔ ابوطالب مکی لکھتا ہے: امیرالمؤمنین علیہ السلام امام حسن علیہ السلام کی شادیوں اور طلاقوں سے پریشان رہتے تھے اور اپنی تقاریر میں فرمایا کرتے تھے: میرے فرزند حسن اپنی بیویوں کو طلاق دیتے ہیں چنانچہ انہیں اپنی بیٹیوں کا رشتہ نہ دیا کریں!۔ 74۔ مجلسى محمد بن عطیه سے نقل کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنینعلیہ السلام امام حسن علیہ السلام کی پے درپے شادیوں اور طلاقوں سے پریشان ہوا کرتے تھے اور مطلقہ بہوؤں کے خاندانوں سے شرم و حیا کیا کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے: حسن بہت زیادہ طلاقیں دیا کرتے ہیں چنانچہ انہيں رشتے نہ دیا کریں۔8 اپنی بات: ان روایات کو اگر درست مان لیا جائے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ امام حسن علیہ السلام کی شادیوں اور طلاقوں کا مسئلہ جنگ جمل و صفین و نہروان کے برابر اہم مسئلہ بن چکا تھا، معاذ اللہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اپنے بیٹی کی نافرمانیوں سے تنگ آچکے تھے اور معاذاللہ ان کی نافرمانی کا حال یہ تھا کہ امیر علیہ السلام ان سے براہ راست بات کرنے کی بجائے لوگوں سے درخواستیں کررہے تھے کہ وہ آپ (ع) کو بیٹے کے رشتوں کا منفی جواب دیا کریں!!! کیا کوئی عقلمند شخص راکب دوش رسول امام حسن مجتبی پر نافرمانی کا الزام لگا سکتا ہے؟ روایات کا تیسرا گروہاس قسم کی روایات میں امام حسن علیہ السلام کی شادیوں کی تعداد بیان ہوئی ہے گو کہ رسول اللہ (ص) اور آل رسول اللہ کے گھوڑوں، خچروں، گدھوں، اونٹوں، تلواروں، دستاروں اور جوتوں تک کے نام ذکر کرنے والے ان مؤرخین نے آپ (ع) کی بیویوں کے نام اور ان کے خاندانوں کے نام ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھے ہیں۔ ان راویوں میں بھی سنیوں کے علاوہ شیعہ راوی بھی موجود ہیں:1۔ كفعمى نے لکھا ہے کہ آپ (ع) نے چونسٹھ شادیاں تھیں۔92۔ ابوالحسن مدائنى کے مطابق آپ کی شادیوں کی تعداد ستر۔ 103۔ ابن حجر کے مطابق نوے۔ 114۔ كلینى کے مطابق پچاس۔125۔ بلخى کے مطابق دوسو۔136۔ ابوطالب مكى کے مطابق دوسوپچاس۔147۔ بعض دیگر نے امام حسن علیہ السلام کی شادیوں کی تعداد بڑھا کر 300 بھی بتائی ہے۔158۔ بعض نے کہا ہے کہ امام (ع) نے 400 تک شادیاں کی تھیں۔16ہمارا جوابستم ظریفی تو یہ ہے کہ یہ روایات اپنوں اور پرایوں نے امام حسن مجتبی علیہ السلام کے بارے میں بیان کی ہیں اور اگرچہ شیعہ راویوں اور بعض غیر شیعہ راویوں نے یقینی طور پر بدنیتی سے یہ روایات نقل نہیں کی ہیں لیکن نتیجہ وہی ہوا ہے جو دشمن چاہتا تھا اور آج اہل بیت (ع) کے دشمن ان ہی روایات کو دستاویز بنا کر حریم اہل بیت (ع) پر یلغار کررہے ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امامین حسنین علیہما السلام کے بارے میں فرمایا: قال رسول الله (ص): الحسن و الحسین سبطان من الاسباط۔ 17 حسن اور حسین اسباط میں سے دو سبط ہیں۔ قال رسول الله (ص): الحسن و الحسین سیدا الشباب اهل الجنة۔18 حسن اور حسن جوانان جنت کے دو آقا اور دو سرور و سردار ہیں ۔ قال رسول اللہ (ص) لفاطمۃ الزہراء (س) یا حبیبتی ۔۔۔ و منا سبطا هذه الامة و هما ابناک الحسن و الحسین و هما سیدا شباب أهل الجنة و أبوهما و الذی بعثنی بالحق خیر منها۔ 19 اے میری پیاری بیٹی! اور ہم میں سے ہی ہیں دو سبط جو آپ کے بیٹے حسن و حسین ہیں جو جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے باپ ـ اس خدا کی قسم جس نے مجھے نبوت پر مبعوث فرمایا ـ ان دو سے افضل ہیں۔قال رسول الله (ص): احب اهلبیتی الی الحسن و الحسین۔20 میری اہل بیت اور میرے خاندان میں میں حسن و حسین (ع) سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔ قال رسول الله (ص): من احبهما فقد احبنی و من ابغضهما فقد ابغضنی۔21 جس نے امام حسن حسن اور امام حسین (ع) سے محبت کی میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جس نے ان دو سے دشمنی کی میں اس کو اپنا دشمن سمجھتا ہوں۔ قال رسول الله (ص): الحسن و الحسین ابنای من احبهما احبنی و من احبنی احبه الله و من احبه الله ادخله الجنة۔22 حسن اور حسین میرے دو بیٹے ہیں جو ان سے محبت رکھے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو مجھ سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرتا اور اس کو جنت میں داخل کرتا ہے۔ قال رسول الله (ص) للحسن و الحسین: انتما امامان ولامکما الشفاع