12 اگست 2011 - 19:30

آل خلیفہ حکومت کے حامیوں نے حال ہی میں ایک قطری وزیر خارجہ "شیخ حمد بن جاسم آل ثاني" کا ایک صوتی ریکارڈ ڈھونڈ لیا ہے جس میں قطری وزیر خارجہ نے کہا ہے کا "قطر اس کے بعد خلیفی حکومت کے مخالفین کی میزبانی کرے گا"۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ حکومت قطر پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ منامہ سے "جزیرہ حوار" کھودینے کا بدلہ لینا چـاہتا ہے جبکہ خلیج فارس کی ریاستوں کے گاڈ فادر "خاندان آل سعود" نے ان دو ریاستوں کے درمیان امن کے قیام کے لئے ماہ مبارک رمضان کے آخر میں مذاکرات منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قطر کے نیوز چینل "الجزیرہ" نے حال ہی میں ایک پروگرام نشر کیا جس کو آل خلیفہ حکمرانوں نے بحرینی عوام کے احتجاج کے سلسلے میں اپنی پالیسیوں کے منافی قرار دیا اور یہیں سے دو خاندانوں کے درمیان ابلاغی جنگ کا آغاز ہوا۔بحرین پر مسلط آل خلیفہ حکمرانوں نے قطر کے حکمران خاندان آل ثانی پر بحرین کے حوالے سے بدنیتی الزام لگایا ہے اور کہا کہ قطر کی حکومت جزیرہ الحوار کے سلسلے میں عالمی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کررہا ہے۔ عالمی عدالت نے بحرین میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کے بعد ان دو ریاستوں کے درمیان 50 سالہ تنازعے کا خاتمہ کرتے ہوئے مجمع الجزائر الحوار کو بحرین کا حصہ قرار دیا تھا۔ آل خلیفہ حکومت کے حامیوں نے حال ہی میں ایک قطری وزیر خارجہ "شیخ حمد بن جاسم آل ثاني" کا ایک صوتی ریکارڈ ڈھونڈ لیا ہے جس میں قطری وزیر خارجہ نے کہا ہے کا "قطر اس کے بعد خلیفی حکومت کے مخالفین کی میزبانی کرے گا"۔ اس ریکارڈ ميں قطری وزیر خارجہ نے آل خلیفہ حکومت پر قطر کے خلاف سازشیں کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ "آل خلیفہ حکومت 1996 میں قطر کے حکمران خاندان کا تختہ الٹنے کی سازش اور بڑی مقدار میں اسلحہ قطر میں داخل کرنے جیسے اقدامات میں ملوث رہی ہے۔ شیخ حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے مزید کہا ہے کہ آل خلیفہ خاندان الزام لگاتا ہے کہ قطر اس کے خلاف سازشیں کررہا ہے جبکہ یہ خاندان بھول گیا ہے کہ اس نے امیر قطر کے خلاف سازش کی تھی۔ خلیفی حکومت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ الجزیرہ ٹی وی چینل کے تمام پروگرام شیخ حمد بن جاسم کی ان ہی باتوں کا تسلسل ہیں۔ ادھر مڈل ایسٹ آنلائن نے کہا اسی سلسلے میں اپنی رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے: ماہ مبارک رمضان کے آخر میں آل خلیفہ اور آل ثانی خاندان کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں آل سعود خاندان کی طرف سے کوششیں جارہی ہیں لیکن ان مذاکرات کی صحیح تاریخ کا تا حال تعین نہیں ہوسکا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110