ابنا: عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی شورائے عالی کے رکن علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ قاتلوں ، دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے نشانے پرمجبوربے بس و لاچار اور پریشان حال عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ۔
انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ اب ملک کے حالات گمبھیر صورت حال اختیار کرچکے ہیں کہا : کوئی سمت ایسی نہیں جہاں عوام امن و تحفظ کی آس لگاسکیں اورعوام کی مایوسی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے ۔
حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے اعلان کردہ سہ روزہ سوگ کے آخری روز علمائے کرام ، اکابرین ملت اور کارکنان سمیت ملک کے مختلف حصوں سے موصولہ ٹیلی فون کالز کے جواب میں بات چیت کرتے ہوئے کہا : غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری ،بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ اور لاتعداد پریشانیوں کی ستائی عوام پرعرصہ حیات تنگ ہوچکا ہے اور وہ شدید عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں ۔
انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ بے گناہ عوام قتل عام ، مساجد و امام بارگاہوں ، عوامی مقامات اورسرکاری و نجی املاک دھشت گردہ کے نشانے پر ہوں تو عوام کس سمت توقع لگائیں تاکید کی : ملک کی داخلی سلامتی اور استحکام کا تمام تر دارومدار اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ہرشخص و ادارہ اپنی ذمہ داریاں اور فرائض پورے خلوص و نیک نیتی اور دیانت داری سے انجام دے۔
حجت الاسلام سید ساجد نقوی نے یہ کہتے ہوئے کہ محب وطن طبقات بلاتفریق مسلک و مکتب باہم متحد ہوکر ملک دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنائیں اور ریاست کے کارپردازاں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے عوام کو امن و تحفظ اور ملک کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کریں کہا : معاشرے میں توازن کی ظالمانہ اورغیر منصفانہ پالیسی کو ترک کرتے ہوئے جزا و سزا کے عمل کو جاری کرکے ظالم و مظلوم اور قاتل و مقتول میں تمیز کی جائے۔
.............
/169