ابنا: حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کل رات اپنے اہم خطاب میںبین الاقوامی عدالت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی عدالت نے شہداء اور اسلامی مقاومت کے خلاف تاریخی ظلم و ستم کا راستہ اختیار کیا ہے اور وہ تمام افراد ظلم کی پشتپناہی اورحقیقت کا انکارکررہے ہیں جو اس ادعا نامہ کی تائید کرتے ہیں ۔ سید حسن نصر اللہ نے حزب اللہ کے بعض افراد کے خلاف بے بنیاد الزام کو مقاومت کے خلاف نفسیاتی اور تبلیغاتی جنگ قراردیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی 33 روزہ جنگ میں اسرائیل پر فتح و کامیابی کے بعد حزب اللہ کے خلاف نفسیاتی اور تبلیغاتی جنگ میں شدید اضافہ ہوگیا ہے انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو حزب اللہ کی توانائی پر شدید تشویش لاحق ہے اور اسی لئے انھوں نے حزب اللہ کے خلاف نفسیاتی جنگ کا آغاز کررکھا ہے لیکن انھیں اس نفسیاتی جنگ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالت کا حربہ بھی حزب اللہ کے خلاف ناکام ہوجائے گا سبھی جانتے ہیں کہ بین الاقوامی عدالت کے وکیل اسرائیل کے قریبی دوست اور ساتھی ہیں اور وہ حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے رفیق حریری قتل کیس سے ایک حربے کے طور پراستفادہ کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا رفیق حریری قتل کیس میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ہم نے پہلے بھی ٹھوس شواہد پیش کئے ہیں اور بہت سے دیگر شواہد بھی موجود ہیں جنھیں مناسب موقع پر پیش کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائيل اب اس فکر میں ہے کہ وہ سن 2000 اور سن 2006 میں حزب اللہ کے ہاتھوں ہونے والی شکست کا انتقام لے رہا ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ بین الاقوامی عدالت کے وکیل بلمار اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک سے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم حاصل کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حق حق ہے اور حق کو کسی صورت میں دبایا نہیں جاسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
دنیاکےانصاف پسندوں کامطالبہ: ہائی کمشنر ہیومین رائٹس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بحرین روانہ کرےCLICK