ابنا: یہ انکشاف ایرانی خبر رساں ادارے (Fars) نے پاکستانی ڈاکٹروں اور ماہرین کے حوالے سے کیا جس میں بتایا گیاکہ امریکا پاکستان میں ڈرنز حملوں میں کیمیائی مواد chemical munitions استعمال کرتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جوبھی پاکستانی شہری امریکا کے ڈرون حملوں میں زخمی ہوئے وہ مختلف جلد ی، بینائی اور سانس لینے کے امراض میں مبتلا ہوگئے۔جس پر پاکستانی ماہرین کہتے ہیں کہ امریکا ڈرونز کے ذریعے پاکستان میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق جب سے امریکا نے ڈرونز کے ذریعے پاکستان میں میزائل حملے شروع کیے اس وقت سے وہ کیمیائی مواد استعمال کررہا ہے ان میزائلوں سے زخمی ہونے والوں کے مردہ یا زندہ ہونے کا اعلان نہیں کیا جاتا ۔خبر رساں ادارے کو پاکستانی ڈاکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈرون حملوں سے زخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد ان میزائلوں میں استعمال کیئے جانے والے کیمیائی مواد سے انتہائی پیچیدہ اور مہلک امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پشاور کے ایک بڑے ہسپتال کے ایک ڈاکٹر بھی اس پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پائے گئے ان کاکہنا تھا کہ پشاور کے علاوہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں کے ہسپتالوں میں امریکا کے ڈرون حملوں میں زخمی ہونے والوں کے متعلق کوئی مکمل معلومات نہیں ہے۔ حکام اور سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام میں ان امریکی ڈرونز حملوں کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔
دریں اثناء شمالی وزیرستان پر امریکیوں کے نئے حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق نئے ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ بشکریہ از روزنامہ جنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز