ابنا: کہا جاتا ہے کہ بادشاہ حمد بن عیسی اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں ایک اہم تقریر میں پھانسی کے تمام آرڈرز کے کالعدم کرنے اور ملکی مسائل کے حل کے لئے مذاکرات کے آغاز کا اعلان کرینگے ۔موصولہ رپورٹ کے مطابق حمد بن عیسی گذشتہ چند دنوں سے آیت اللہ عیسیٰ قاسم سے ملنے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن انہیں ہر بار آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی جانب سے انکار کے سوا کچھ نہیں ملا ہے کیونکہ آیت اللہ عیسیٰ قاسم کا کہنا ہے کہ حمد نے بحرینی عوام پر غداری کا الزام لگایا ہے چنانچہ اب وہ اب ان غداروں سے کس منہ کے ساتھ ملنا چاہے ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ حمد بن عیسی کو اس بے بنیاد الزام پر عوام سے معافی مانگنی ہوگی۔دوسری جانب سے ابنا کے مطابق بادشاہ کو اس وقت سلفی سوچ رکھنے والے وزیر اعظم سمیت متعدد اہم افراد سے شدید خطرہ ہے کیونکہ وہ ملک پر اپنا اثر رسوخ بڑھا رہے ہیں، ایسے میں انہیں اس وقت شدت سے ملکی عوام حمایت اور پشت پناہی کی ضرورت ہے، ادھر یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ سلفی سوچ کے حامل خلیفی وزیر اعظم اور ان کے حامی افراد نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملک کے اکثریتی آبادی کے ساتھ مذاکرات ہوئے یا ان کے مطالبات مانے گئے تو وہ آل خلیفی بادشاہ کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے۔ اور آل سعود نے دھمکی دی ہے کہ اگر حمد بن عیسی نے عوام کے ساتھ مذاکرات کئے اور ان کے مطالبات مان لئے تو مزید سعودی فوج بحرین پر چڑھائی کرے گی اور بحرین پر باقاعدہ قبضہ کیا جائے گا۔
مبصرین کا خیال ہے کہ آل سعود نے ضمنی طور پر حمد بن عیسی کو ان کی بادشاہت ختم کرکے ان کے چچا،تاحیات وزیراعظم، خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ کو بادشاہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔کہا جاتا ہے کہ قصر شاہی سے ایک وفد نے مظاہرین کے علاج معالجے کے الزام میں گرفتار میڈیکل سٹاف سے بھی ملاقات کی ہے اور اس ملاقات میں انھوں نے میڈیکل سٹاف سے کہا ہے کہ وہ ایک خط کے توسط سے بادشاہ سے معافی مانگیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ اپنا جبر روکنے کے لئے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں اور اکثریتی آبادی کے ساتھ تعلق بنانے کی فکر میں ہیں۔مبصرین کا خیال ہے کہ بحرین میں آنے والے حالات ڈرامائی انداز اختیار کر سکتے ہیں۔
بشکریہ از ایم ڈبلیو ایم میڈیا سیل واضح رہے کہ یکم جون کو بحرین میں ایمر جنسی کا خاتمہ ہورہا ہے اور پرامن احتجاج کی طرف واپسی (جمعة العودة السلمية) کے لئے تیاریاں، شروع کی گئی ہیں چنانچہ آنے والے جمعے کو وسیع مظاہروں اور ریلیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ابنا کے مطابق بحرین کے انقلابی عوام نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں ہنگامی حالت کے خاتمے کے بعد (جمعة العودة السلمية کے عنوان سے) جمعہ کے روز عظیم مظاہرے کئے جائیں گے اور ریلیاں نکالی جائیں گی اور پرل اسکوائر یا میدان شہداء سمیت الجفیر کے علاقے میں امریکی فوجی اڈے کے قریب واقع اسکوائر میں اجتماعات ہونگے۔
تفصیل کے لئے یہاں رجوع کریں:
بحرین/ پرامن احتجاج کی طرف واپسی (جمعة العودة السلمية) کے لئے تیاریاں، وسیع مظاہروں کا اعلان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز