اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی بحوالہ پاکستانی ذرائع:پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ یاسر عباس سمیت 10 اہل کاروں کی شہادت، 15 کے زخمی ہونے اور اربوں روپے مالیت کے 2 پی تھری اورین طیاروں کی تباہی کے بعد پی این ایس مہران پر قابض حملہ آور دہشت گردوں کے خلاف 16گھنٹوں کا طویل آپریشن پیر کی دوپہر 4 دہشت گردوں کی ہلاکت اور 2 کے فرار ہونے کے بعد ختم تو ہوگیا مگر پاکستانیوں کے ذہنوں میں ان گنت سوال اور خدشات چھوڑ گیاہے۔نیول بیس پر حملہ اس حوالے سے ملکی سالمیت کے لیے خطرناک ترین کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملک کی بحری دفاعی لائن پر کاری ضرب تھی اس کے ذریعے دہشت گرد بیس پر موجود 20 دیگر طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کو بھی تباہ کرنا چاہتے تھے اور دوسری طرف چینی انجینئرز بھی ان کا نشانہ تھے، مگر 6 فائر فائٹر اور دیگر کمانڈوز ان کی راہ میں حائل ہوگئے اور نہ صرف دہشت گردوں کو مزید پیش قدمی سے روکا، بلکہ اہم دفاعی تنصیبات کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں سے گزرگئے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق نیوی پر ہونے والے مسلسل حملوں میں یہ انتہائی خطرناک اور منظم حملہ تھا، جس میں دہشت گردوں نے جدید ہتھیار، نصف درجن سے زائد دھماکے اور 6 آر پی جی راکٹ فائر کئے۔ چنانچہ حملہ آوروں کو بیرونی و اندرونی مدد حاصل ہونے کا غالب امکان ہے۔آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کہا ہے کہ انہیں سو فیصد یقین ہے کہ پی این ایس مہران پر حملہ امریکی آپریشن تھا۔ امریکہ نے ہمیشہ دوست بن کر ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ اسی طرح کا بیان دفاعی تجزیہ نگاروں نے بھی دیا ہے۔ گزشتہ سانحات و واقعات کی روشنی میں اس بات کی کم ہی امید ہے کہ دہشت گردوں کے بارے میں اہل وطن کو معلوم ہو سکے کہ وہ کون تھے؟ تحریک طالبان پاکستان کے اعترافی بیانات ایسے واقعے کے بعد مغربی میڈیا کے ذریعے سامنے آجاتے ہیں، جس کا اعتبار کرنے کے لیے بھی ہمارے پاس کوئی مصدقہ ذریعہ نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب بھی مغرب کے مفاد اور پاکستان کے نقصان میں کوئی اقدام ہوتا ہے پاکستانی طالبان یا پرو امریکہ طالبان فوری طور پر ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور تحقیقات کا راستہ وہیں رک جاتا ہے اور قوم کی نظریں تو کیا شاید حکومت کی نظریں بھی آگے جانے سے عاجز ہوکر رہ جاتی ہیں۔ یا حتی جاننے بوجھنے والے لوگ اپنے ذاتی مفادات و تعلقات کی وجہ سے طالبان کے دعوؤں کو ہی کافی سمجھنے لگتے ہیں تا کہ کوئی انگلی ان کے آقاؤں کی طرف نہ اٹھنے پائے۔مرزا اسلم بیگ کہتے ہیں پاکستان پر حملوں کے لیے بھارت کالعدم تنظیموں کو استعمال کر رہا ہے۔ الغرض قوم اور رہنما الجھن، انتشار اور حالت اضطراب میں ہیں کہ اس سانحے میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ یاسر عباس ہی وہ واحد سپاہی نہیں، جو تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے اور چند مہینے بعد ان کا گھر آباد ہونے والا تھا، بلکہ اس سے قبل بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 35 ہزار سے زائد شہید جوانوں میں بہت سے اپنے گھروں میں بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ شہید رینجرز اہل کار اختر کی شادی بھی 2 ماہ بعد ہونے والی تھی۔سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہمارے جوان یونہی شہید ہوتے اور دفاعی ادارے نشانہ بنتے رہیں گے؟ جب تک اس سوال کا کافی و شافی جواب اس کے اسباب اور اس کا سدباب نہیں کیا جاتا، ملک خطرے میں اور اہل وطن اندیشوں میں گھرے رہیں گے۔ ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے آخر اور کتنے جوانوں کا لہو اور معاشی خودکشیاں درکار ہوں گی کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کو اپنے گھر میں لانے کے بعد ملکی سالمیت خطرے میں پڑ چکی ہے۔ امریکی اتحادی بننے کے بعد دہشت گردی کے خلاف اس جنگ نے پاکستان کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ حکومت اعتراف خود کرچکی ہے کہ اس جنگ سے ملک کو 45 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ حالیہ سانحے میں اربوں روپے کے 2اورین طیاروں کی تباہی اور ڈرون حملوں میں ہزاروں معصوم اور قیمتی جانوں کا نقصان علیحدہ ہے۔پی این ایس مہران میں آپریشن مکمل ہونے کے چند گھنٹے بعد شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں امریکی ڈرون نے مسافر کوچ پر حملہ کر کے 7 افراد کو شہید کر دیا۔ امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود ہر دوسرے دن امریکہ ہمارے شہریوں کو اس طرح ہلاک کررہا ہے، جب کہ ایبٹ آباد جیسے مزید آپریشن اور یکطرفہ کارروائیوں کی دھمکیاں بھی کھلے عام دے رہا ہے۔ امریکی اتحادی بننے سے قبل ہماری صرف مشرقی سرحدیں غیر محفوظ تھیں۔ تاہم ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں بھارت کو جرات نہیں تھی کہ وہ جارحیت کرے۔ لیکن اس جنگ میں شامل ہونے کے بعد مغربی سرحدیں بھی غیر محفوظ ہیں اور حالیہ اورین طیاروں کی تباہی نے بحری سرحدوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی ہمیں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔حکومتی مناصب پر بیٹھے اربابِ بست و کشاد کی عقل میں آخر یہ بات کب آئے گی کہ امریکہ نہ 71ء میں ہمارا دوست ہوا اور نہ موجودہ دہشت گردی کی جنگ میں اسے ہم پر کوئی اعتبار ہے۔ عالمی جنگ کی دہکتی ٹرین میں سوار ہونے کے بعد ہمیں سوائے بربادیوں کے اورکیا ملا!نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنماب اس واقعے پر مختلف تبصرے:مہران بیس پر حملہ ریمنڈ کے ساتھیوں کی کارروائی ہے: سابق سربراہ آئی ایس آئیآئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے کہا ہے کہ کراچی میں پاک بحریہ کے مہران بیس پر حملہ ریمنڈ ڈیوس کے ساتھیوں کی کارروائی ہے‘ یہ بات 100فیصد یقینی ہے کہ پی این ایس مہران پر دہشت گردوں کا حملہ امریکی آپریشن تھا، طالبان میں اتنی صلاحیت اور فنی استعداد نہیں کہ وہ کراچی جا کر نیوی کے ایئر بیس کو نشانہ بنائیں۔ کراچی سے شائع ہونے والے جریدے تکبیر کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس جیسے سینکڑوں آدمی اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ مہران بیس پر حملے میں امریکہ کی سپیشل آپریشن فورسز ملوث ہیں۔ حمید گل نے کہا کہ پاکستان کی فوجی تنصیبات اور مراکز کو ایک عالمی سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ ہمارے حکمران اس سازش کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل ہماری ایٹمی صلاحیت سے خوفزدہ ہیں اور ایک عرصے سے پاکستان کو اس صلاحیت سے محروم کرنے کے لئے سازشوں میں مصروف ہیں۔ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ ہم امریکہ کی جس جنگ میں پھنس چکے ہیں اس سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے‘ ہمیں اس امریکی جنگ سے کنارہ کشی اختیار کر کے تمام امریکیوں کو پاکستان سے واپس بھجوا دینا چاہئے‘ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی سوالیہ نشان بن جائے گی۔ جنرل (ر) حمید گل نے ایک برطانوی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ یہ ایک امریکی آپریشن تھا؛ سانحہ کراچی واضح طور پر خصوصی فورسز کا آپریشن تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی میں کئی ماہ لگے ہوں گے جبکہ حملے کیلئے جو خفیہ معلومات اکٹھی کی گئی ہوں گی اس کے لیے بھی کافی منطقی طریقہ استعمال کیا گیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حملے میں ہدف بنائے جانے والے جہازوں کی جاسوسی اور نگرانی کیلئے بھی انتہائی جدید انداز اختیار کیا گیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدم استحکام امریکی دوستی کی قیمت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ماریہ سلطان:مہران حملہ، بھارت یا سی آئی اے کے کنٹریکٹر ملوث ہوسکتے ہیںدفاعی تجزیہ کار اور ساؤتھ ایشیاء اسٹرٹیجک اسٹیبلٹی انسٹیٹیوٹ کی ڈائریکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ مہران ائیر بیس پر حملے میں بھارتی ایجنسی یا سی آئی اے کے کنٹریکٹر ملوث ہوسکتے ہیں، جہازوں کی تباہی کا فائدہ پاکستان کے دشمنوں کو ہوگا، اورین طیارے روایتی ہتھیاروں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں حصہ بننے کے بعد پاکستان بہت غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں مہران نیول بیس پر دہشت گردوں کے حملے پر بات کی گئی جس میں دفاعی تجزیہ کار ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) شہزاد چوہدری، دفاعی تجزیہ کار وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) جاوید اقبال اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل نے بھی شرکت کی۔
شہزاد چوہدری:شہزاد چوہدری نے کہا ہے کہ مہران نیول بیس پر حملہ 4 یا 6 دہشت گردوں نے نہیں بلکہ زیادہ لوگوں نے کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے۔ پاکستان کو غیر محفوظ قرار دیکر ایٹمی اثاثوں پر قبضے کی سازش ہورہی ہے۔یہ بات کہنا ابھی قبل از وقت ہوگی کہ دہشت گردوں کو نیول بیس کے اندر سے بھی تعاون حاصل تھا۔ جاوید اقبال:جاوید اقبال نے کراچی سے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو پر حملے اور ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے وقت بھی سیکیورٹی کی ناقص صورتحال سامنے آئی تھی۔ یاد رہے کہ حملے میں چھ ارب سینتالیس کروڑروپے کا نقصان ہوا،ٹیم میں فضائیہ،ایف آئی اے اور رینجرز کے افسران شامل ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی میں تباہ ہونیوالا پی تھری سی اورین طیارے کا ملبہ بکھرا پڑا ہے پاک بحریہ کے ریئر ایڈمرل کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سانحہ پی این ایس مہران کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دیں جبکہ دہشت گردی کے اس واقعہ میں چھ ارب سینتالیس کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ۔ وزارت داخلہ کے اعلی حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم میں بحریہ کے علاوہ پاک فضائیہ ،ایف آئی اے ،رینجرزاور نیول انٹیلی جنس کے افسران شامل ہیں جنہیں وسیع اختیارات حاصل ہونگے اور یہ کمیٹی جلد از جلد اپنی رپورٹ اعلی حکام کودے گی۔ کمیٹی پورے واقعہ کا جائزہ لے گی، شواہد دیکھے گی اور آن فیلڈ اور تمام آن ڈیوٹی افسران اور اہلکاروں کے بیانات قلمبند کرے گی ،کمیٹی سکیورٹی کی ناکامی کا بھی جائزہ لے گی جبکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے اپنی سفارشات دے گی جبکہ ذمہ داروں کا تعین بھی یہ کمیٹی کرے گی۔دریں اثناء کراچی میں پاک بحریہ کی مہران بیس پر دہشت گرد حملہ کے مقدمہ، وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، نیول چیف سمیت اعلی حکام کے بیانات اور حقائق میں سنگین نوعیت کے تضادات نے صورتحال کو تشویشناک کردیا۔ رحمن ملکوزیر داخلہ رحمان ملک نے گذشتہ روز پریس کانفرنس میں دعویٰ کرکے پوری قوم کو حیرت زدہ کردیا تھا کہ مہران نیول بیس پر حملہ کرنے والے ملزمان کی تعداد چھ تھی جن میں سے چار ہلاک جبکہ دو فرار ہوگئے اورحملہ آوروں کے پاس سے دوخود کش جیکٹ، آٹھ دستی بم، چارکلاشنکوف، اور ایک راکٹ لانچر برآمد ہوا ہے۔ جبکہ ایک دہشت گردی کی جیب سے تیرہ سو روپے اور کھجور کا ایک پیکٹ برآمد ہوا۔دوسری جانب مہران بیس سانحہ کی ابتدائی رپورٹ وفاقی وزارت داخلہ کو موصول ہوگئی ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق واقعہ میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی ملوث ہے۔ کالعدم تنظیم نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کی۔ دہشتگردوں نے حملے میں آرپی جی