15 مئی 2011 - 19:30

کراچی میں نامعلوم دہشت گردوں نے سعودی قونصلیٹ کی گاڑی پر فائرنگ کی جس سے سعودی سفارتکار حسن گابانی جاں بحق ہوگیا۔

ابنا: ذرائع کے مطابق درخشاں تھانے کی حدود ڈیفنس خیابان شہباز میں سعودی سفارتکار اپنے گھر سے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے قونصلیٹ جار رہے تھے ، کہ ان کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں سعودی سفارتکار حسن گابانی جاں بحق ہوگیا ۔پولیس کے مطابق موٹرسائیکل سوارملزمان فائرنگ کر کے فرار ہوگئے ۔قونصلیٹ کی گاڑی کا نمبر CC 5264۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی قونصلیٹ پر دو دستی بم پھینکے گئے تھے ۔جس سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔  وزیر داخلہ کا سعودی سفارتی عملے کے اہلکار کی تحقیقات کا حکم  وزیرداخلہ رحمان ملک نے کراچی میں سعودی قونصلیٹ کے سفارتی عملے کے اہلکار کی ہلاکت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیاہے جبکہ کراچی میں مقیم سعودی سفارتی عملے اور شہریوں کو انفرادی طور پر مکمل اور فول پروف سیکیورٹی دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے کراچی میں سعودی قونصلیٹ کے اہلکار کی گاڑی پر فائرنگ اور اس اس کے نتیجے میں اس کی ہلاکت کے واقعہ پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس سندھ کو فوری کارروائی کرکے مجرموں کی گرفتاری اور ان کے خلاف سخت ایکشن کا حکم دیاہے۔ وزیرداخلہ کا کہناہے کہ مجرم سزا سے نہیں بچ سکتے اور اور ان کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔  

سعودی سفارتکار "حسن القحطانی" قتل؛ کالعدم پاکستانی طالبان نے ذمہ داری قبول کرلیگذشتہ ہفتے بھی سعودی قونصلیٹ پر بم حملہ ہوا تھا اور اس سے قبل بھی ایک حملہ ہوا تھا جس کی پولیس نے کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی اور پاکستان کے کئی روزناموں نے لکھا تھا کہ سعودی سفارتی ادارے پر حملہ اسامہ بن لادن کی موت کا رد عمل ہوسکتا ہے لیکن بعض تکفیری اور شیعہ دشمن روزناموں نے دعوی کیا تھا کہ "کراچی میں حالیہ ایام میں سپاہ محمد (ص) سرگرم ہوگئی ہے اور دوسری طرف سے سعودی عرب نے بحرین پر قبضہ جمایا ہوا ہے چنانچہ یہ حملہ بحرین پر سعودی قبضے کا رد عمل ہوسکتا ہے"۔ان روزناموں نے ان حملوں میں برادر اسلامی اور پڑوسی ملک کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کی تھی لیکن آج کے حملے کے بعد ان کے لمبے چوڑے مضامین اور غلط باتوں کو جوڑ جوڑ کر من پسند نتیجہ نکالنے کے لئے اتنی زحمتوں پر پانی پھرنے کی کم از کم بعض لوگوں کو خوشی ہوگئی ہوگی کیونکہ وہ نیا فتنہ کھڑا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور وہ یوں کہ آج طالبان کے ترجمان نے رائٹرز کو ٹیلی فون کرکے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ترجمان کہلوانے والے دہشت گرد نے دھمکی دی ہے کہ جب تک امریکہ کی جانب سی القاعدہ کا تعاقب بند نہیں کیا جاتا اور قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے اڈوں کو بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے حملوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا اس طرح کے حملے مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔ کراچی کے پوش علاقے میں ہونے والی دہشت گردی میں ایک سعودی سفارت کار جاں بحق ہو گیا ہے۔ سفارت کارکا قتل اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں سعودی عرب کے خلاف دہشت گردوں کی دوسری کارروائی ہے۔  پولیس حکام کے مطابق مقتول حسن القحطانی کراچی میں قائم سعودی قونصل خانے میں شعبہ تحفظ میں تعینات تھے اور واقعے کے وقت اپنے گھر سے قونصل خانہ جارہے تھے کہ راستے میں دہشت گردوں نے انہیں نشانہ بنایا۔سعودی سفارت کار کے قتل سے انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے ملنے والی ان دھمکیوں کو حقیقت کا روپ ملنا شروع ہو گیا ہے، جن میں دہشت گردوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بند لادن کے قتل کا بدلہ لینےکے لیے سفارت کاروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کا اظہار کیا تھا۔دہشت گردوں نے آل سعود کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکیوں کے ساتھ اتنے قریبی تعاون کے ہوتے ہوئے پاکستان کے شہر اس کے بعد ان کے شہریوں اور سفارتکاروں کے لیے بھی غیر محفوظ ملک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

- کراچی: سعودی قونصل خانے پر حملہ/ گزشتہ دنوں بھی کراچی میں ایک بم دھماکہ ہوا تھا / اپڈیٹ

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز

 بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت