ابنا: عرب لیگ کے جنرل سکریٹری نے واشنگٹن پوسٹ کوانٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ امریکہ تہران اورقاھرہ کے درمیان تعلقات سے تشویش میں مبتلاہے لیکن مصرکو چاہئے کہ وہ جلد ہی ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے بنیادی قدم اٹھائے۔
عمرو موسی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مغرب کے خودغرضی پرمبنی پروپیگنڈوں کے برخلاف ایران عربوں کادشمن نہيں ہے کہاکہ تہران کے حکام نے ہمیشہ باہمی احترام اور ایک دوسرے کے امور میں ہرطرح کی مداخلت سے دورعرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی برقراری پرتاکیدکی ہے۔عمرو موسی نے کہاکہ مصرکے عوام اورحکومت کوایران کے ساتھ تعلقات کاکافی فائدہ ہوگا اگرچہ امریکہ او صہیونی ریاست اس میں روڑے اٹکارہے ہیں۔ درایں اثنامصرکے وزیرخارجہ نے جلدہی ایران کے وزیرخارجہ سے اپنی ملاقات کی خبردی ہے اوراعلان کیاہے کہ یہ ملاقات، دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتربنانے کے سلسلے میں اگلا قدم ہوگا۔نبیل العربی نے کہاہے کہ ناوابستہ تحریک کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جوآئندہ مہینے ہونے والاہے ، اپنے ایرانی ہم منصب علی اکبرصالحی سے ملاقات کریں گے۔انھوں نے کہاکہ ایران کے مصرسے نزدیک ہونے کامطلب یہ نہيں ہے کہ مصرعرب ممالک کے حقوق اورمسائل کی حمایت کاپابند نہيں رہے گااور یہ موقف پوری طرح واضح ہے۔ایران کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اوراسے مستحکم کرنے کے سلسلے میں مصری حکام کے بیانات اورکوششوں نے واشنگٹن کے حکام کے درمیان تشویش پیداکردی ہے یہاں تک کہ امریکہ یورپی ممالک کے ساتھ مل کرتہران قاھرہ تعلقات معمول پرآنے کی مخالفت کررہاہے اور تہران کو علاقے اورعالم عرب میں ہونے والی تبدیلیوں سے دور رکھناچاہتاہے اوراس نے اس سلسلے میں پروپیگنڈہ مہم تیز کررکھی ہے۔باخبرذرائع کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ مستقبل قریب میں دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے اسٹریٹیجک فیصلوں کے نتیجے میں تہران قاھرہ تعلقات سے اجتناب ناگزیرہوگالیکن مصرمیں اب بھی ایسے لوگ موجود ہيں جوایران اور مصرکے تعلقات معمول پرنہیں دیکھناچاہتے اور تعلقات میں بہتری کے راستے کو خراب کرناچاہتے ہيں یہاں تک کہ امریکی اور اسرائیلی بھی اپنے وسائل سے انھیں مضبوط کررہے ہيں۔بہرحال یہ کہاجاسکتاہے کہ انقلاب مصرکی کامیابی اورحسنی مبارک کی حکومت گرنے کے پیش نظر، مصری حکام اس وقت ایران سمیت تمام ملکوں کے ساتھ اچھے تعقلات کے خواہاں ہيں اورقاھرہ حکام نہیں چاہتے کہ ماضی کی مانندمغربی ممالک بالخصوص امریکہ قاھرہ کو یہ ڈکٹیٹ کرتے رہیں کہ کس ملک سے تعلقات استوارکرنا ہے اور کس سے نہيں کرناہے۔اس وقت مصراپنی خارجہ پالیسی کو آزادرکھناچاہتاہے اوراس تناظرمیں بنیادی طورپر قاھرہ اورمصرکے درمیان تعلقات کی راہ میں کوئی روکاوٹ نہيں ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ علاقے میں مصر اور ایران کاکردارایک دوسرے کا مکمل ہوسکتاہے اوران تعلقات میں رقابت پیداکرنے کی امریکہ اوراسرائیل کی کوششیں ناکام ہوسکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز