29 مارچ 2011 - 19:30

سعودی عرب کے شہزادے ولید بن طلال نے مصر کے معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف مقدمہ نہ چلائے جانے کے لئے مصر کے حکام کو چار ارب ڈالر کی رشوت کی پیشکش کی ہے۔

ابنا: ارنا نے الوطن ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ مصر کے معزول صدر حسنی مبارک اور اس کے خاندان والوں سے قریبی تعلقات رکھنے والے سعودی عرب کے ارب پتی شہزادے ولید بن طلال نے مصر کے بعض حکام سے ملاقات میں ان کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ چار ارب ڈالر دینے کو تیار ہیں اور اس کے بدلے میں مصر کے حکام کو حسنی مبارک اور اس کے خاندان کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کی روک تھام کرنا ہوگی۔ واضح رہے کہ حمدی خلیفہ کی زیر قیادت مصر کی وکلاء یونین مصر اور بیرون ملک موجود حسنی مبارک کے اثاثے ضبط کرنے اور ان کو سرکاری خزانے میں واپس لانے کے لئے کوشاں ہے۔ ولید بن طلال آل سعود خاندان کا سب سے مالدار شہزادہ ہے جس کی ذاتی دولت 20 ارب ڈالربتائی جاتی ہے۔ایک عربی جریدے کے مطابق ولید بن طلال اس وقت تین ہوائی جہازوں - بوئینگ747 ایئربس321 اور HAWKER SIDDLEY 125 نیزائر بس A389 کا مالک ہے جو دنیا کا سب سے بڑا مسافر ہوائی جہاز ہے اور دو ہیلی کاپٹروں نیز انتہائی مہنگی قسم کی چند گاڑیوں کا مالک ہے جنکی قیمت آٹھ سو ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔علاوہ ازیں ولید بن طلال ایک نے ایک تفریحی بحری جہاز بھی خریدا ہے جس ہیلی کاپٹر اترنے کے لئے ہیلی پیڈ موجود ہے۔ بہرحال آل سعود کے موجودہ بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بن سعود آل سعود کا بھتیجا ہونے کے باوجود اس کے پاس بظاہر کوئی سیاسی عہدہ نہیں ہے تاہم حسنی مبارک کے معاملے میں دلالی کی وجہ اس کے ذاتی تعلقات کو قرار دیا جارہا ہے۔ [جبکه حسنی مبارک کو اقتدار میں لوٹانا اس وقت صہیونی ریاست کی سب سے بڑی خواہش ہے اور ولید بن طلال کے صہیونیوں کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں]۔آل سعود خاندان مال ودولت کی ریل پیل کی بنا پر مختلف ممالک حکام اور سیاسی شخصیات کے ساتھ خاصے گہرے مراسم رکھتا ہے اور اپنے ان ہی ذاتی تعلقات کے بنا پر وہ ان ملکوں کے سیاسی عمل میں پس پردہ رہتے مداخلت کرتا ہے تا ہم اس کی مداخلت کبھی طشت از بام ہوجاتی ہے اور کبھی اس پر ان کی عیاشیوں کی طرح ہمیشہ پردہ ہی پڑا رہتا ہے۔بہرحال اپنے ذاتی مراسم اور اثرورسوخ کی بنا پر آل سعود خاندان جو کردار ادا کرہا ہے اس کا فائدہ یا تو وہ خود اٹھا تے ہیں یا پھر اپنے جیسے ڈکٹیٹروں اور حکام کو پہنچاتے ہیں۔ بطور مثال عرب اور افریقی ملکوں کے متعدد ڈکٹیٹر اور قوموں کے دھتکارے ہوئے حکام کے لئے سعودی عرب کے شاہی محل اور مجلل مہمان خانے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اور اس بابت جو وہ ان سے سیاسی اور مالی فائدہ اٹھاتا ہے اس کا ریکارڈ شاہی خاندان کے دیگر سیکرٹس کی طرح محفوظ رہتا ہے۔پاکستان کے سابق فوجی سربراہ پرویزمشرف نے جس وقت نواز خاندان کو اپنے عتاب کا نشانہ بنایا تو اس وقت آل سعود خاندان سے ان کے ذاتی مراسم ہی کام آئے اور اس بابت انہوں نے مشرف حکومت سے کیا لیا اور مراعات کے بدلے نواز شریف سے کتنی رقم بٹوری، یہ بات صیغہ راز میں ہے۔ حال ہی میں ریمنڈ ڈیوس کیس میں ایک پاکستانی سیاستدان کے بقول آل سعود خاندان نے امریکہ اور پاکستان کے بیچ جو کردار ادا کیا ہے اس پر پاکستانی عوام سخت سیخ پا ہیں۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ مصر کے حکام اور عدلیہ، قوم کی دولت کی لوٹ کھسوٹ کرنے والے ڈکٹیٹر کی جان بخشی کے لئے آل سعود کے اس مالدار شہزادے کی پیشکش کو قبول کرتی ہے یا اپنے عوام کے مطالبے پر کان دھرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110