ابنا: کراچی میں اتوار کے روز ایم اے جناح روڈ پر ہزاروں شیعیان حیدر کرار علیہ السلام نے بحرین میں سعودی جارح افواج کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے بحرینی عوام سے اظہار یکجہتی کا شاندار مظاہرہ کیا اور حمایت مسلمین ریلی نمائش چورنگی تا سی بریز سینٹر تک نکالی،ریلی کا اہتمام شیعہ علماء کونسل اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی نے کیا تھا،شرکائے ریلی نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر آل سعود ،آل یہود اور امریکا مردہ باد ،اسرائیل نامنظور،بحرین میں سعودی جارحیت بند کرو،بحرین سے سعودی فوجوں کو واپس بلاؤ،بحرین میں عوامی بیداری کی حمایت پر مبنی نعرے آویزاں تھے۔شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق لیبیا،یمن،بحرین اور دیگر ممالک میں چلنے والی انقلابی اور عوامی تحریکون کی حمایت اور اظہار یکجہتی کے لئے منعقدہ حمایت مسلمین ریلی سے جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی،شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما علامہ مرزا یوسف حسین،شیعہ علماء کونسل کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا ناظر عباس تقوی،مجلس وحدت مسلمین کراچیکے مولانا صادق رضا تقوی اور جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی سمیت دیگر نے خطاب کیا ،اس موقع پر علمائے کرام کی بڑی تعداد ریلی میں شریک تھی ۔

رہنماؤں نے شرکائے ریلیسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحرین میں خلیجی ممالک کی فوجوں کی موجودگی اور سعودی ناصبی افواج کی بحرینی عوام پر انسانیت سوز مظالم سے مسلمامہ کا دل تار تار ہو گیاہے ،اور انتہائی شرمکی بات ہے کہ آج عالمی ادارے اور انسانی حقوق کے علمبردار بحرین میں سعودی جارحٰت پر چپ سادھے ہوئے ہیں ،ان کاکہنا تھا کہ بحرین میں سعودی افواج کا کردار فلسطین میں اسرائیلی افواج کے کرادر کے مترادف ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور آل سعود کے خلاف احتجاج کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سلفی وہابی افواج واپس نہیں ہو جاتیں ۔شرکائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کاکہنا تھا کہ بحرین میں آزادی اور جمہوریت کی بحالی کی جد وجہد کرنے والے پر امن مظاہرین پر سعودی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ سے درجنوں بے گناہ شیعہ شہیدہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں ذخمی ہیں جنہیں اسپتالوں میں بھی علاج معالجہ کے لئے نہین جانے دیا جا رہا،ان کاکہنا تھا کہ عرب ممالک کی افواج کو چاہئیے کہ مسلم امہ کے دشمن کیخلاف فوج کشی کریں اور اپنی بہادری کا لوہا منوائیں نہ کہ مسلمانوں کو اپنء ظلم و ستم کا نشانہ بنائیں،رہنماؤں کاکہنا تھا کہ امریکا ایک ایسا مکروہ کردار ہے کہ جس کا بد نما چہرہ لیبیا میں اپنے مفادات کی خاطر عیاں ہوا ہے اور اب بحرین میں بھی اپنے پانچویں بحری بیڑے کے تحفظ کے لئے سعودی وہابیوں سے مسلمانوں کا قتل عام کروا رہاہے،رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ او آئی سی،عرب لیگ،اور اقوام متحدہ بحرین میں سعودی وہابیوں کی جارحیت کا سختی سے نوٹس لیں اور خلیجی ممالک کی افواج کو فوری طور پر بحرین سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔رہنماؤں نے واضح کیا کہ پاکستان کے شیعہ اور سنی عوام بحرین،یمن اور لیبیاکے مسلمانوں کے ساتھ ہیں کہ جب تک انکے ممالک میں ان کی خواہشات کے مطابق عمل درآمد نہیں ہوتا ،ان کاکہنا تھا کہ اب دنیا بیدار ہو چکی ہے اور شہدائے انقلاب کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وہ وقت بھی زیادہ دور نہیں کہ جب عالمی استعمار امریکا اور اسرائیل اپنی نابودی کا خود مشاہدہ کریں گے،ان کاکہنا تھا کہ عرب ممالک اور مشرو وسطیٰ میں امریکی مفادات کے تحفظ پر معمور صہیونی آلہ کار حکمران اب یکے بعد دیگرے گرنا شروع ہو گئے ہیں اور یہ سلسلہ اسلامی مشرق وسطٰی کے قیام پر ہی ختم ہو گا۔اس موقع پر شرکائے ریلی نے امریکا،اسرائیل،آل سعود اور غاصب حکمرانوں کے خلاف زبر دست نعرے بازی کی جبکہ امریکی و صہیونی پرچم بھی نذر آتش کئے۔بحرین اور یمن میں آمریت کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے نہتے مسلمانوں کے قتل عام اور پاکستانی حکمرانوں کی ملی بھگت سے دو معصوم شہریوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام، چائنہ چوک تا پریس کلب ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی ، ریلی کی قیادت ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی راہنماﺅں علامہ حنین گردیزی، علامہ سخاوت حسین قمی، علامہ احمد اقبال رضوی، برادر نثار فیضی ،صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکر ی ،راولپندی اسلام آباد کر راہنما برادر مسرور اور آئی ایس او کے مرکزی نائب صدر برادر حسن راولپنڈی ڈویژن کے صدر برادر تقی حیدر نے کی ۔ ریلی میں مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور ملت جعفریہ کی دیگر تنظیمون کے اراکین و عہدیداروں سمیت سینکڑوں مردو خواتین اور طلبہ نے شرکت کی، شرکائے ریلی نے بڑے بڑے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے درج تھے ، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی راہنما علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ بحرین میں نہتے مسلمانوں کے قتل عام کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ استکباری طاقتیںیمن اور بحرین میں آمریت کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے مسلمانوں کو ہی آلہ کار بنا کر مسلمانوں کا خون بہا رہی ہیں ، انہوں نے بحرین اور یمن میں سعودی فوج ج کشی کو بیرونی جارحیت کی بد تریں مثال قرا ر دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قتل و غارت اوعر ظلم و بر بریت کا یہ سلسلہ فی الفور بند کرایا جائے، ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری نے مشرق وسطیٰ میں سر اٹھانے والی اسلامی بیداری کی تحریکوں کو کچلنے کی مذموم کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اب بیداری کی اس لہر کو روکنے کے لیے عالم کفر و نفاق متحد ہو چکا ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ امت مسلمہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اسلامی بیداری کی تحریکوں کو تقویت دے ، انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ جب تیونس میں آمریت کے خلاف تحریک چل رہی تھی تو کسی بھی مسلمان ملک نے اسے کچلنے کے لیے فورسز نہیں بھیجیں ، لیبیا میں عوامی بیداری کی تحریک کے دوران بھی فورسز بھیجنے سے گریز کیا گیا لیکن جیسے ہی بحرین میں بیداری کی تحریک عروج پر پہنچی تو اسے کچلنے کے لیے سعودی فورسز پہنچ گئیں ، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالم اسلام کا ایک معتبر نام ہے ،اس کے اس مذموم طرز عمل سے اسلا می دنیا کو کوئی اچھا پیغام نہیں ملا، انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بحرین میںجارحانہ اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان مظلوم بحرینی مسلمانوں کی کھل کر حمائت کرنے کا اعلان کرے، انہوں نے بحرین میں فورسز کے ہاتھوں ہونے والے معصوم بحرینی مسلمانوں کے قتل عام پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مظلوم بحرینی مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ۔شرکائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سخاوت حسین قمی نے کہا کہ سعودی فورسز نے بحرین اور یمن میں نہتے مسلمانوں پر گولیاں برسا کر امریکہ نوازی کا ثبوت دیا ، سعودیہ کے اس طرز عمل سے اس کا اصلی چہرہ سامنے آ گیا اور امت مسلمہ پر خادم حرمین کی حقیقت کھل گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکمران بھی امریکہ نوازی میں سعودی حکمرانوں سے پیچھے نہیں ، خون بہا کے نام پر دو بے گناہ پاکستانیوں کے قاتل، امریکی ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے جو ڈرامہ رچایا گیا اس کے مرکزی کردار پاکستانی اور سعودی حکمران ہیں، انہوں نے کہا کہ مقتولین کے لواحقین کوعمرہ کے بہانے سعودی عرب بلا کر انہیں صلح پر مجبور کیا گیا اور خوں بہا کی رقم حکومت پاکستان نے قومی خزانے سے ادا کی ، ریمنڈ ڈیوس کی ڈرامائی انداز میں رہائی سے پاکستانی عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی ایس او کے مرکزی نائب صدر برادر حسن نے کہا کہ استکباری قوتوں کو مسلمانوں کے مابین نفاق کا بیج بو کر اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا ، اس وقت پاکستان عملی ظور پر امریکی کالونی کا نقشہ پیش کر رہا ہے ، یہان تمام فیصلے امریکہ اور اس کے حورایوں می مرضی اور منشا کے مطابق ہوتے ہیں ، سفاک قاتل ریمنڈ ڈیوس کی ڈرامائی انداز میں رہائی اس کا بین ثبوت ہے ، انہوں نے پارہ چنار سے پشاور جانے والی مسافر بس میں ہونے والے دھماکہ اور اس مٰن تعدد افراد کی شہادت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے امن معاہدہ کی خلاف ورزی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ وہشت و بربریت کا سلسلہ فی لافور ختم کرایا جائے ، ریلی کے اختتام پر امریکی پرچم نظر آتش کیا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110