4 مئی 2010 - 20:34

بحرین: سعودی فورسز کی مداخلت؛ تین بحرینی مظاہرین شہید / مصر: نئے آئین کی تدوین کے لئے تشکیل شدہ کمیٹی کے سربراہ ایک اسلامی مفکر / لیبیا: قذافی کی چالیس سالہ آمریت کی بنیادوں پر لرزہ طاری / یمن: 17 مظاہرین زخمی 165 افراد گرفتار۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق علاقے کی کٹھ پتلی آمر حکومتوں کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے اور بحرین میں یہ احتجاجات سب سے زیادہ شدید ہیں۔ پولیس تشدد کی وجہ سے تین افراد شہید ہوگئے ہیں اور مجروحین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

بحرین/ کل رات ـ ایک نوجوان شہید 

ظالم اقلیتی حکومت کے خلاف بحرین کے مظلوم شیعیان اہل بیت (ع) کے احتجاجات میں 21 سالہ نوجوان «علی المشیمع» نے جام شہادت نوش کیا ہے۔

کل سوموار کے روز بحرینی عوام کے مظاہروں کا پہلا دن تھا جسے "یوم الغضب کا نام دیا گیا تھا۔ سعودی سیکورٹی فورسز بحرینی سیکورٹی فورسز کی مدد اور یوم الغضب پر بحرینی مظلوم عوام کے مظاہرے کچلنے کے لئے بحرین میں داخل ہوئیں۔ کل بحرینی رائل گارڈز کی دسیوں گاڑیاں کنگ فہد بریج سے گذر کر بحرین میں داخل ہوئی ہیں۔

مصر/ صبح 08:05 بجے ـ مبارک کومے میں 

مصری روزنامہ "الیوم" نے لکھا کہ حسنی مبارک شرم الشیخ میں مکمل غشی کی حالت میں ہیں اور دو روز سے ہوش میں نہیں آئے ہیں اور انہیں اندرون یا بیرون ملک کے کسی اسپتال میں منتقل نہیں کیا جا رہا ہے۔

 لگتا ہے کہ موجودہ حکمران ان کا علاج معالجہ کرنے کے روادار نہیں ہیں گویا ان کے جانشینوں کو ان کی میت زیادہ مفید ہے!!؟

بحرین/ صبح 09:10 بجے ـ بحرینی شہیید کا جنازہ

کل رات بحرینی / سعودی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے 21 سالہ شیعہ نوجوان علی المشیمع کا جنازہ بحرین کے وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے اٹھا؛ ہزاروں افراد جنازے کے جلوس میں شریک ہوئے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق بحرینی / سعودی فورسز نے جلوس جنازہ پر بھی تشدد کیا اور فائرنگ کی۔

مصر /  صبح 10:00 بجے ـ امریکہ اور یورپ میں حسنی مبارک کے اثاثوں کا حال

مصر کی فوجی کونسل نے امریکی حکومت سے درخواست کی ہے کہ معزول صدر حسنی مبارک کے اثاثے منجمد کردے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان "فلپ کرولی" نے کہا کہ اب تک مصری حکومت کی طرف سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے لیکن اگر کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوجائے تو امریکی حکومت مناسب اقدام کرے گی۔ دوسری طرف سے یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ یورپ میں مبارک کے اثاثے بہت جلد منجمد کئے جائیں گے۔

بحرین/ صبح 10:30 بجے ـ دو افراد شہید

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بحرین کے دو شیعہ مظاہرین سعودی / بحرینی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہوگئے ہیں۔ شہداء میں سے ایک کا نام "فاضل المتروک" ہے جو آج صبح شہید المشیمع کے جنازے کے جلوس پر فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے۔ بحرین کے شہداء کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔

یمن/ صبح 11:00 بجے ـ یمن میں مظاہرے جاری ہیں 

آمر علی عبداللہ صالح کے خلاف یمنی عوام کے احتجاجی مظاہرے آج بھی دارالحکومت صنعاء اور جنوبی یمن کے مختلف علاقوں میں جاری رہے۔ یمن کے کل اور آج کے مظاہروں میں 17 افراد زخمی اور 165 افراد حراست میں لئے گئے ہیں۔

مصر /  صبح 11:20 بجے ـ الہویدی: نیند سب کی حرام ہوگئی! 

مصری تجزیہ نگارا «فہمي الہويدي» نے حسنی مبارک کے دور میں عالمی سطح پر مصر کی ذلت و ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر کی بیداری نے سب کی نیندیں حرام کردی ہیں۔

بحرین/ صبح 11:40 بجے ـ بحرینی شیخ کا خطاب

بحرین کے ناروا فرمانروا «شیخ حمد بن عیسی آل‏خلیفہ» نے ایک براہ راست ٹیلی ویژن پروگرام میں ٹیلی ویژن اسکرین پر ظاہر ہوکر کہا: میں کل رات مارے جانے والے نوجوان کے خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔

شیخ نے پولیس پر اس قتل کا الزام لگایا اور کہا: متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی۔

ادھر ابھی بحرینی شیخ کی تقریر جاری تھی اور دوسری طرف سے میدان لؤلؤة میں مذکورہ شہید کے جنازے کے جلوس پر پولیس تشدد جاری تھا جس کے نتیجے میں دوسرا نوجوان بھی شہید ہوگیا۔ یوں بحرین کے ناروا فرمانروا کی جھوٹی طفل تسلیوں کا پول کھل گیا کیونکہ بحرینی پولیس اور سعودی کی مداخلت کرنے والے رائل گارڈز شیخ کی براہ راست ہدایات پر کاروائیاں کررہے ہیں۔

لیبیا/ دوپہر 12:00 بجے ـ قذافی کو بھی اب جانا چاہئے

دنیائے عرب میں عوامی احتجاجات عام ہونے کے بعد لیبیا کی ثقافتی، اکیڈمک اور سیاسی شخصیات نے ایک مشترکہ بیان میں قذافی اور اس کے تمام افراد خاندان کے تمام سیاسی، فوجی، اور سیکورٹی مناصب سے ہٹ جانے اور عوام کو اپنے مقدرات کا فیصلہ خود کرنے کا حق دینے پر تأئید کی ہے۔

قذافی عرب دنیا کا سب سے پرانا آمر ہے۔ اس ملک میں کبھی بھی کسی قسم کے انتخابات منعقد نہیں ہوئے اور کسی بھی اپوزیشن جماعت کو سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

بحرین/ دو پہر13:10 بجے ـ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات

عوام کے ابتدائی مطالبات میں "ملک میں سیاسی تبدیلیاں، سرگرم کارکنوں کی بحرینی شیخ کی جیلوں سے رہائی، ملکی آبادی کا توازن بگاڑنے کی غرض سے بیرون ملک سے آئے ہوئے افراد کو قومیت دینے کے عمل کا خاتمہ" شامل تھے۔

یہ مظاہرے اپوزیشن کی سات جماعتوں کی درخواست پر شروع ہوئے۔

سیاسی جماعتوں کا بیان:

ہمارے سیاسی فرائض کا تقاضا ہے کہ ہم تمام شعبوں میں تیز رفتار تبدیلیوں اور حاکمیت کے قانون کو منتقلی کا مطالبہ کریں؛ قانون کی حکمرانی در حقیقت وہی جمہوری نظام ہے اور عوام نے ایک رفرینڈم میں اس نظام کی تأئید کی ہے اور  ہم آئین کی دفعہ نمبر 1 جس میں عوام کو اپنے نظام کے انتخاب کا حق دیا گیا ہے، اس بات پر زور دیتی ہے۔

ان تبدیلیوں اور آزادی، جمہوریت، عدل اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر ملک کی تعمیر نو کا وقت آن پہنچا ہے۔

مصر/ سہ پہر 14:30 بجے ـ مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری

قاہرہ اور اسکندریہ بالخصوص برح العرب کے صنعتی علاقے میں، وسیع اجتماعات، دھرنے جاری ہیں۔

عبوری وزیر داخلہ نے بھی مصری انقلاب کے بعد رونما ہونے والے حادثات کے بعد اپنے کئی معاونین اور اعلی اہلکاروں کو برطرف کردیا ہے۔ سیکورٹی کے اعلی اہلکاروں کی برطرفی ایسے حال میں سامنے آرہی ہے کہ مصری عوام نے اس سے قبل بارہا انقلاب کے دوران لوگوں پر حملے کرنے والے عناصر کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے میجر جنرل محمد طلبہ کو قاہرہ کے سیکورٹی ادارے کا سربراہ اور میجر جنرل محسن مراد کو جنرل سیکورٹی ادارے کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ اعلی فوجی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ دو مہینوں میں نئے آئین کی منظوری کے لئے رفرینڈم منعقد کیا جائے گا۔

ادھر مصر کے اسلامی مفکر "طارق البشری" کو مصر کے نئے آئین کی تدوین کے لئے تشکیل شدہ کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

بحرین/ دوپہر 15:20 بجے ـ اب مظاہرین کا مطالبہ: نظام حکومت کی تبدیلی اور بس

بحرین کے ایک معترض شہری نے ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ ہمارا احتجاج صرف اصلاحات اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے لئے ہے اور ہم نظام حکومت کو سرنگون کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تا ہم ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ حتی اگر مظاہرین میں سے ایک فرد بھی قتل کیا جائے تو ہم حکومت کے خاتمے سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہونگے۔

انھوں نے کہا: اب حکومت نے عوام پر حملے کئے ہیں اور تین افراد شہید ہوچکے ہیں لہذا اب ہم صرف اور صرف نظام کے خاتمے اور حکومت کا تختہ الٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں چاہئے۔

ایک بحرینی معترض کا سوال: کیا ہم پر امن احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات منوا سکیں گے؟

بحرین/ سہ پہر 16:15 بجے ـ فارمولا ون کار ریلی پر حملہ 

مظاہرین کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو وہ بحرین کی فارمولا ون کار ریلی (گرینڈ پرائز) پر حملہ کریں گے۔

کار ریلی کے مقابلے منعقد کرنے والے اہلکار بھی اس بات سے فکر مند ہیں کہ کہیں ان فارمولا ون ریلی کے افتتاحی مقابلے عوامی حملوں کی زد میں نہ آئیں۔

بحرین ایسے حال میں 3 مارچ کو فارمولا ون کار ریلی کی آزمائشی مقابلوں کا میزبان ہے کہ اسی وقت بھی ایشیا کی فری سٹائل کار ریلی کے دوسری ریلی کے انعقاد کا خواہاں ہے۔ بحرین کے گرینڈ پرائز مقابلے کسی بھی عرب ملک میں پہلے ایشیائی مقابلے سمجھے جاتے ہیں۔

بحرین/ شام  16:50 بجے ـ زخمیوں کی تعداد میں اضافہ، ہڑتال بازار بند

بحرین سے موصولہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سعودی / بحرینی فورسز کے تشدد کے نتیجے میں 100 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ اداروں کے تمام کارکنوں نے ہڑتال کررکھی ہے اور بازار مکمل طور پر بند ہیں۔

بحرین/ شام 17:00 بجے ـ پارلیمان کے شیعہ اراکین کے استعفے

بحرینی پارلیمان میں "وفاق ملی" پارلیمانی اتحاد کے رکن "ابراھیم المطر" نے کہا ہے کہ کئی شیعہ اراکین پارلیمان پر مشتمل اتحاد "وفاق ملی" نے کل رات سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوان کی شہادت پر احتجاج کرتے ہوئے پارلیمان میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

المطر نے کہا: ہم آئندہ چند روز میں پارلیمان کی رکنیت سے مکمل استعفے کے بارے میں آخری فیصلہ کریں گے۔

انھوں نے کہا: اراکین پارلیمان کا استعفی درحقیقت عوامی مطالبات کو واضح کرکے بیان کرنے کا ایک شیوہ ہے۔

5

بحرین/ شام 17:20 بجے ـ میدان لؤلؤة میں مظاہرے جاری ہیں 

ہزاروں افراد میدان اللؤلؤة میں جمع ہوگئے ہیں اور وہ اب بالکل مصری انقلابیوں کے طرز کے مطالبات نعرے لگا کر پیش کررہے ہیں:  "الشعب یرید اسقاط النظام = قوم نظام حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے"۔

بحرین کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اعلان کیا ہے کہ بحرین کے ناروا فرمانروا کے وزیر اعظم قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔

بحرین/ شام 17:45 بجے ـ نمائشی اصلاحات نامنظور  

تحریک "الخلاص" کے سیکریٹری جنرل "عبدالرؤوف الشائب" نے کہا: عوامی مظاہرے کسی بھی سیاسی گروہ یا جماعت کی دعوت پر شروع نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے خودجوشانہ (Spontaneously) اور رضاکارانہ شروع کررکھے ہیں لوگ اپنی مرضی سے آئے ہیں اور وہ نظام حکومت کے خاتمے کے سوا کچھ بھی نہیں چاہتے۔

انھوں نے کہا: بادشاہ نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے ڈھانچے کی اصلاح کریں گے اور پارلیمنٹ کو تحلیل کریں گے تا ہم عوام کسی صورت میں بھی ان کی نمائشی اصلاحات سے فریب نہیں کھائیں گے کیونکہ عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ ملک میں ایک آزاد اور جمہوری حکومت قائم ہو۔

بحرین/ شام 18:05 بجے ـ میدان اللؤلؤة میں ایک لاکھ افراد کا مجمع  

بحرین کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ اس وقت میدان اللؤلؤة میں ایک لاکھ سے زائد مطاہرین کا مجمع لگا ہوا ہے اور دوسری طرف سے کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی کئی گاڑیاں اس میدان کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

بحرین/ شام 17:20 بجے ـ میدان لؤلؤة میں مظاہرے جاری ہیں 

ہزاروں افراد میدان اللؤلؤة میں جمع ہوگئے ہیں اور وہ اب بالکل مصری انقلابیوں کے طرز کے مطالبات نعرے لگا کر پیش کررہے ہیں:  "الشعب یرید اسقاط النظام = قوم نظام حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے"۔

بحرین کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اعلان کیا ہے کہ بحرین کے ناروا فرمانروا کے وزیر اعظم قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔

بحرین/ شام 17:45 بجے ـ نمائشی اصلاحات نامنظور  

تحریک "الخلاص" کے سیکریٹری جنرل "عبدالرؤوف الشائب" نے کہا: عوامی مظاہرے کسی بھی سیاسی گروہ یا جماعت کی دعوت پر شروع نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے خودجوشانہ (Spontaneously) اور رضاکارانہ شروع کررکھے ہیں لوگ اپنی مرضی سے آئے ہیں اور وہ نظام حکومت کے خاتمے کے سوا کچھ بھی نہیں چاہتے۔

انھوں نے کہا: بادشاہ نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے ڈھانچے کی اصلاح کریں گے اور پارلیمنٹ کو تحلیل کریں گے تا ہم عوام کسی صورت میں بھی ان کی نمائشی اصلاحات سے فریب نہیں کھائیں گے کیونکہ عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ ملک میں ایک آزاد اور جمہوری حکومت قائم ہو۔

بحرین/ شام 18:05 بجے ـ میدان اللؤلؤة میں ایک لاکھ افراد کا مجمع  

بحرین کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ اس وقت میدان اللؤلؤة میں ایک لاکھ سے زائد مطاہرین کا مجمع لگا ہوا ہے اور دوسری طرف سے کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی کئی گاڑیاں اس میدان کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110