25 جنوری 2011 - 20:30

حسنی مبارک کا بیٹا جمال مبارک اپنی اہلیہ کے ہمراہ سونے اور قیمتی اشیاء کے دسیوں صندوق لے کر فرار ہوگئے ہیں؛ برطانوی حکمرانوں کا خیر مقدم۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر میں مبارک مخالف انتفاضہ کے سلسلے میں پر تشدد مظاہرے شروع ہوگئے ہیں اور مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ مبارک کے خلاف مصر کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہورہے ہیں اور دارالحکومت قاہرہ سمیت مختلف شہروں میں صورت حال مصری آمریت کے خلاف ہوگئی ہے اور کئی مقامات پر پہلی مرتبہ صدر مبارک کی تصویریں پھاڑ لی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین صدر حسنی مبارک کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہیں اور دارالحکومت قاہرہ میں 30 ہزار سے زائد پولیس نفری تعینات ہونے کے باوجود مظاہرین تحریر اسکوائر پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔پولیس اورمظاہرین کے درمیان تصادم میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ تیونس میں عوامی انقلاب اور تیونس کے صدر کے فرار ہونی کے بعد امریکہ نواز عرب رہنماؤں کے خلاف عرب عوام میں زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے اور عرب عوام امریکہ نواز عرب رہنماؤں سے سخت متنفر ہیں۔

دریں اثناء مستقبل میں امریکی صدارت کی امید لے کر پلنے والے صدر مبارک کے بیٹے "جمال مبارک" اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ 97 بھاری صندوقوں میں سونے اور قیمتی اشیاء کی ایک بڑی مقدار لے کر ملک سے فرار ہوکر لندن پہنچ گئے ہیں جہاں برطانوی حکمرانوں نے ان کا خیر مقدم کیا ہے۔  جمال مبارک کل منگل کے روز ایک مصری طیارے میں برطانیہ فرار ہوگئے ہیں۔

عالمی قیادت کے دعویدار مغربی سامراجی ممالک اپنے طویل المدت دعوؤں کے برعکس مسلم ممالک سمیت تمام مشرقی، ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکی ممالک کے مفرور لٹیرے حکمرانوں کو پناہ دے کر اقوام عالم کے تمام مجرمین کے لئے جنت کا سماں پیش کررہے ہیں وہ مجرموں کی پناہگاہیں ہیں اور اقوام عالم کے مجرمین کو پناہ دینے کے مجرم ہیں گویا کہ جب وہ خود اگر ایسا اقدام کرتے ہیں تو وہ جرم کے زمرے میں نہیں آتا!!! لیکن اگر دوسرے ممالک کے خلاف اقوام متحدہ یا دوسری کسی بین الاقوامی تنظیم استعمال کرنے کا ارادہ ہو تو اسی قسم کے الزامات لگا کر اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں اور دنیا کی اکثریتی آبادی "طاقت کی منطق" سے مرعوب ہوکر ان کے سامنے منہ کھولنے کی جرأت نہیں کرتی تا ہم عرب ممالک میں انقلاب کی لہر کی وجہ سے ایسے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جن کے مجرمین نے مغرب میں پناہیں لے رکھی ہیں اور جو قومی دولت سمیٹ کر ان ممالک میں منتقل کرگئی ہیں چنانچہ مستقبل قریب میں توقع کی جاسکتی ہے کہ مغربی ممالک بھی اپنے اس دوہرے رویئے کا جواب دینے پر مجبور ہوجائیں گے اور وہ بھی آہستہ آہستہ بین الاقوامی قوانین پابندی اور انسانی حقوق کی عدم پامالی کو  اپنا فریضہ سمجھنا شروع کریں گے۔

......

/110