ابنا: اسرائیل نے بظاہر اس فلسطینی پیشکش میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔فلسطینی مذاکرات کار نے مسجد اقصیٰ کے علاقے کوعالمی کمیٹی کی نگرانی میں دینے کی بھی تجویز پیش کی۔دستاویزات کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس انتظامیہ نے اسرائیل کو پیش کش کی تھی۔ مقبوضہ بیت المقدس کے علاوہ گردونواح کی تمام بستیوں کو اسرائیلی اپنے ساتھ ملا لے اور فلسطین کو آزاد ریاستتسلیم کرلے، الجزيرہ چینل کے مطابق اس کے پاس مشرق وسطیٰ مذاکرت کے حوالے سے ہزاروں خفیہ دستاویزات ہیں۔ بظاہر یہ دستاویزات فلسطینی جانب سے افشا کی گئی ہیں۔

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ وہ مزيدسينکڑوں دستاويزات کو بھي منظر عام پر لائے گا جن سے معلوم ہوتا ہےکہ فلسطيني اتھارٹي نے فلسطيني مہاجرين کي واپسي کے حوالے سے بھي اسرائيل کو رعاتیں دينے کي پیشکش کی۔ ان دستاویزات سے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔بعض اسلامی مبصرین پہلے ہی فلسطینی مذاکرات کاروں کو امریکی اور اسرائیلی آلہ کار قرار دے رہے تھے، فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم اب فتح نہیں بلکہ حماس ہے۔
..........
/110