تمہید: ہم سب جانتے ہیں کہ اگر وکی لیکس کے اس بین الاقوامی کھیل میں کوئی صداقت ہوتی تو امریکہ حتی بحری بیڑوں تک کو روانہ کرکے اس کا سد باب کرتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا؛ صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو نے وکی لیکس کے انکشافات سے صرف ایک روز قبل کہا تھا کہ اسرائیل کو ان انکشافات سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور پھر ہم نے دیکھا کہ امریکہ نے بعض ممالک کے خلاف اپنا موقف درست ثابت کرنے کے لئے وکی لیکس کے انکشافات کے حوالے دینا شروع کئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی ڈرامہ ہے جس میں سچ اور جھوٹ کو ملا کر فاش کیا گیا ہے اور اس کا فائدہ صرف اور صرف امریکہ اور اسرائیل کو پہنچ رہا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان تمام انکشافات میں ـ بلا استثناء ـ امریکی سفیروں کو ممالک کے اصلی حکام کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا کی بظاہر جمہوری حکومتیں یا پھر مطلق العنان بادشاہتیں اور آمریتیں سب کے سب صرف ظاہری طور پر اپنے ممالک پر مسلط ہیں جبکہ حقیقت میں ان حکومتوں کی باگ ڈور امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ صدر اسلامی جمہوریہ ایران کے دورہ بھارت کے بارے میں انکشاف تھا کہ امریکی سفیر نے مخالفت کی تو بھارتی حکام نے کہا: مہربانی کرکے عوام کو یہ حقیقت نہ جاننے دیں کہ ہم تمام فیصلے امریکہ کی مرضی سے کرتے ہیں اور اس مسئلے میں مداخلت نہ کریں" جس سے دنیا کی سب سے بڑی خودمختار جمہوریت کا پول بھی کھل گیا۔ چنانچہ وکی لیکس کے ذریعے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکہ ہی دنیا کے اکثر ممالک پر حکمرانی کررہا ہے۔ ہم یہاں بعض انکشافات کا حوالہ اسی طرح دے رہے ہیں جس طرح کہ وکی لیکس نے بیان کیا ہے جس میں بعض سچی باتوں سے بعض نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں اور ثابت کیا جاسکتا ہے کہ عرب ممالک دوسرے ممالک سے کہیں زیادہ اسرائیل اور امریکہ کے قابو میں ہیں جبکہ اسرائیل عربوں کا خاص اور مسلمانوں کا عام دشمن ہے۔

وکی لیکس نے فاش کیا:امارات: اماراتی حکام نے کہا کہ ایران کا خطرہ 46 سیکنڈوں کا خطرہ ہے اور بہت جلد ان کا گریباں پکڑ لے گا۔ ان کے مطابق یہ مدت ایران سے ایک بیلیسٹک میزائل کی امارات تک پہنچنے کی مدت ہے۔ اماراتیوں نے ایران کا مقابله کرنے کے لئے امریکہ سے ڈرون طیارے بھی مانگے تھے!!!سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے امریکیوں کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا: اس سانپ (ایران) کا سر کاٹ لیں۔ بحرینی بادشاہ نے کہا: ایران کا ایٹمی پروگرام ہر قیمت پر ختم کریں۔اردنی سینٹ کے سربراہ نے کہا: ایران پر بمباری کریں یا پھر ایرانی بم سر پر سجائیں۔ایران پر امریکی حملہ عرب ممالک کی نہ بجھنے والی پیاسسعودی بادشاہ ان دنوں بیمار ہیں وہ امریکہ میں علاج بھی کروا آئے ہیں لیکن ستاسی برس کی عمر میں ایک ایسے شخص کی تندرستی محال نظر آتی ہے جس نے اپنی پوری زندگی میں عیاشیوں کی مختلف اقسام آزما لی ہیں اور اپنے جسم کا بےراہرویوں میں بے تحاشا خرچ کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے بیمار اور ضعیف العمر بادشاہ نے حالیہ برسوں میں امریکہ کو ایران پر چڑھائی کرنے کی متعدد بار ترغیب دلائی ہے؛ گو کہ مصری آمر اور سرطان کے ناقابل علاج مرض میں مبتلا صدر ـ جو اب کہا جارہا ہے کہ اپنے پیشرو انورالسادات کے قتل میں بھی ملوث تھے ـ بھی اس حوالے سے عبداللہ کے ساتھ تھے؛ امارات کے ولیعہد محمد بن زاید اور بحرین کے اقلیتی بادشاہ شیخ حمد بن عیسی آل خلیفہ بھی امریکیوں کو ایران پر حملہ کرنے کے لئے اکساتے رہے ہیں۔ وہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لئے امریکہ کے سامنے منت سماجت کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر عبداللہ بن عبدالعزیز نے ریاض میں واقع امریکی سفارتخانے کو ایک تحریری پیغام بھیج کر کہا تھا: اس سانپ کا سر کاٹ لیں۔ سعودی بادشاہ نے اپریل 2008 میں بغداد میں مقیم امریکی سفیر رایان کروکر (Rayan Kroker) اور عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس (David Petraeus) سے بات چیت کرتے ہوئے امریکہ سے ایران پر حملے کی درخواست کی تھی۔ انکشافات کے مطابق اس ملاقات کے بعد واشنگٹن میں مقیم سعودی سفیر "عادل الجبیر" نے ریاض میں امریکی سفیر فورڈ۔ایم۔ فریکر (Ford M. Fraker) سے ملاقات کی اور اپنے بادشاہ کی درخواست کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: انھوں نے (عبداللہ نے) تم (امریکیوں) سے کہا ہے کہ "اس سانپ کا سر کاٹ لیں"۔ اس ملاقات کے بعد امریکی سفیر نے وزرات خارجہ کو جو یادداشت بھیجی ہے اس میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ "بادشاہ، وزیر خارجہ، شہزادہ مقرن، شہزادہ نائف میں اس حوالے سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ سعودی سلطنت کو عراق میں ایران کا اثر و رسوخ کم کرنے اور اس ملک میں ایران کی طرف سے تخریبکاری کی حمایت کا مقابلہ کرنے کے لئے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ بادشاہ خاص طور پر اس خیال پر زور دے رہے ہیں اور شہزادے بھی اس خیال کے حامی ہیں۔ امریکی سفیر کی یادداشت میں مزید لکھا گیا ہے: سعودی سفیر الجبیر نے متعدد بار سعودی بادشاہ کی تجاویز پر اصرار کرتے ہوئے ایران پر حملے کی تجویز دی اور کہا کہ (ان کے بقول،) امریکہ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا خاتمہ کردے۔ ان دستاویزات کے مطابق سعودی بادشاہ نے عہد کیا ہے کہ وہ عراق میں ایران کا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لئے امریکہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب ہے عراق میں دہشت گردی کراتا اور دہشت گردوں کے کمانڈر تعینات کرتا، دہشت گرد بھرتی کراتا اور انہیں مالی اور تربیتی سہولیات فراہم کرتا ہے مزید معلومات کے لئے اس لنک کا ضرور مشاہدہ فرمائیں:
[متنازعہ سعودی شیڈو پرنس لاپتہ / تصاویر دیکھنا نہ بھولیں]
ان دستاویزات کے مطابق سعودی بادشاہ نے امریکی مہمانوں کے ساتھ اپنی ملاقات میں عراقی وزیراعظم نوری المالکی کو ایران کا ایجنٹ قرار دیا اور کہا کہ "میں المالکی پر کبھی بھروسا نہیں کرسکتا"۔ایک دستاویز کے مطابق مارچ 2009 میں سعودی بادشاہ نے وہائٹ ہاؤس کے انسداد دہشت گردی کے مشیر جان برینن (John Brennan) کے ساتھ ملاقات میں کہا: میں نے ایرانی وزیرخارجہ منوچہر متکی سے کہا کہ "آپ ایرانیوں کو عرب ممالک کی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے" اور میں نے متکی سے یہ بھی کہا کہ "ایران کا بنیادی مقصد مسائل کھڑے کرنا ہے"(!)۔ایک اور دستاویز میں درج ہے کہ دسمبر 2005 کو لکھی گئی یادداشت کے مطابق سعودی بادشاہ اس وقت کے امریکی صدر جارج واکر بش پر غضبناک ہوگئے تھے کہ انھوں نے ایران پر حملے کے حوالے سے ان (عبداللہ) کی تجویز پر عمل کیوں نہیں کیا"۔ اس دستاویز کے مطابق سعودی بادشاہ کا کہنا تھا کہ: "ماضی میں سعودی عرب اور صدام حسین نے ایران کو قابو میں رکھنے کے موضوع پر اتفاق کرلیا تھا اور اب امریکہ نے عراق «سونے کی تالی میں تحفے» کے طور پر ایران کو پیش کردیا ہے۔
سعودی عرب دنیا میں دہشت گردی کا سب سب بڑا اسپانسروکی لیکس کے انکشافات کے مطابق سعودی عرب دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا اسپنانسر ہے اور امریکیوں کی رائے کے مطابق القاعدہ، طالبان اور دیگر انتہاپسند گروپوں کو سب سے بڑی مالی امداد سعودی عرب سے فراہم ہورہی ہے۔ وکی لیکس نے امریکی وزیر خارجہ، ہلیری کلنٹن کے دستخطوں سے جاری ہونے والے ایک یادداشت فاش کردی ہے جس میں ہلیری نے امریکی سفارتکاروں کو دہشت گردوں کو امداد فراہم نہ کرنے کے سلسلے میں سعودی حکمرانوں پر دباؤ بڑھانے کی ہدایت کی ہے. اس دستاویز کا تعلق دسمبر 2009 سے ہے۔اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ یہ ممالک بھی دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں اور دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہیں۔بحرین کی دشمنیایک دستاویز میں بحرین کے اقلیتی بادشاہ کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔ اس دستاویز کے مطابق حمد بن عیسی آل خلیفہ نے امریکیوں سے درخواست کی ہے کہ "ہر ممکنہ روش سے ایران کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ کرنا چاہئے۔ اس یادداشت کے مطابق آل خلیفہ نے جنرل پیٹریاس سے کہا تھا کہ "ایران عراق اور افغانستان میں بہت سے مسائل کی جڑ ہے"۔ وکی لیکس کا دعوی کہ یہ یادداشت نومبر 2009 میں منامہ میں مقیم امریکی سفیر نے تحریر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "بحرینی بادشاہ بہت شدت کے ساتھ مطالبہ کررہے تھے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو ہر ممکن وسیلے سے ختم کیا جائے"۔ اس یادداشت کے مطابق بحرینی شیخ کا کہنا تھا: "اس پروگرام کو روکنا چاہئے کیونکہ اگر ہم انہیں یہ پروگرام آگے بڑھانے دیں گے تو اس کا خطرہ اسے روک لینے کے خطرے سے بہت زیادہ ہوگا"۔ اردن کی عداوتایک دستاویز کے مطابق سینٹ اردن کے سربراہ "زید الرفاعی" نے ایک اعلی امریکی اہلکار سے درخواست کی تھی کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ایران پر بمباری کرے۔ انھوں نے امریکی اہلکار سے کہا تھا کہ "یا ایران پر بمباری کریں یا پھر ایرانیوں کا بم سر پر سجائیں؛ پابندیاں، گاجر اور ترغیبات کی تجاویز کی کوئی اہمیت نہیں ہے"۔
یادرہے کہ اردنی بادشاہ حاضر سروس برطانوی فوجی کرنل ہیں اور اردن کی تشکیل در حقیقت فلسطین پر قبضے کی نیت سے ہوئی اور اردن کا شاہی خاندان علاقے میں اسرائیلی مفادات کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔امارات کا خوف و ہراس اور عداوت و دشمنیانکشافات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت ایران کو علاقے میں اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتی ہے۔اپریل 2006: امریکی سفارتکاروں کی یادداشت میں مندرج ہے کہ امارات کی حکومت ایران کو اپنی قومی سلامتی کے لئے اہم ترین خطرہ سمجھتی ہے۔امریکی سفارت نے اس دستاویز میں لکھا ہے: "امارات کے اعلی حکام اور ابوظہبی کے حکمران خاندان نے ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی کی آشکارا حمایت کی ہے۔ دستاویز کے مطابق ابوظہبی کے حکام نے کہا: "اگر ایران ایٹمی ملک بن جائے تو اس صورت میں القاعدہ کا خطرہ بہت کم ہوگا"۔ابوظہبی کے حکام کے اس موقف سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سمیت ابوظہبی کی امارت کی طرف سے القاعدہ کی حمایت کا خدشہ بھی درست ہے جبکہ دنیا میں دو ہی ممالک نے افغانستان میں طالبان کی امارت اسلامی کو تسلیم کیا تھا: سعودی عرب ـ متحدہ عرب اماراتبہرحال وکی لیکس کی دستاویز کے مطابق: ابوظہبی کے ولیعہد محمد بن زائد نے خطے میں اس وقت کے امریکی کمانڈر جنرل ابو زید سے ملاقات میں کہا تھا کہ "میرے خیال میں یہ مرد (محمود احمدی نژاد) ہمیں جنگ