5 دسمبر 2010 - 20:30

ایران اور گروپ 1 + 5 کے درمیان مذاکرات پندرہ ماہ کے بعد پیر کے روز سے جنیوا میں پھر شروع ہوگئے ہیں لیکن پہلے سے مختلف ماحول میں اور جامع مذاکرات کی بنیاد پر اب ان مذاکرات کے موقع پر ابلاغی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں کتنی امید کی جاسکتی ہے؟

ابنا: اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر معاملے میں اعتماد سازی کے لئے مذاکرات ہی منطقی ترین روش ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بھی یہی رہا ہے اور اس نے ہمیشہ مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے لیکن اس تاکید کے ساتھ کہ مذاکرات اس وقت نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں جب یہ عدل و انصاف اور باہمی حقوق کے احترام کی بنیاد پر ہوں۔ گذشتہ مذاکرات میں اس چیز کا فقدان تھا اور یہی امر مذاکرات میں پندرہ ماہ کے تعطل کا سبب بنا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک نے صرف جامع مذاکرات کے لئے عزم کا اظہار نہیں کیا بلکہ دباؤ میں شدت پیدا کرنے کی پالیسی کی بنیاد پر پابندیوں، دھمکیوں، ایران کے ایٹمی پروگرام کے سافٹ ویئرسسٹم میں گڑبڑ پیدا کرنے اور ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے جیسے تمام طریقوں پر عمل کیا تا کہ بزعم خود ملت ایران کو الگ تھلگ اور اپنے حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیں لیکن ملت ایران این پی ٹی معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے ایٹمی ٹیکنالوجی کی اپنی صلاحیت سے استفادہ کرنے میں پیش رفت کا راستہ پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ گروپ پانچ جمع ایک کے پاس مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے سوا اور کوئي چارہ نہیں ہے کیونکہ ان پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ بین الاقوامی معاملات میں ایران کو اکیلا کرنا، فوجی دھمکی اور پابندیاں یہ سب ناکام ہتھکنڈے ہیں اور ان کا ملت ایران کے اتحاد و یکجہتی اور پائیداری پر کوئي اثر نہیں ہوا ہے۔نفسیاتی جنگ فتنہ و فساد اور حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں کی حمایت کی کمزور پالیسیاں اسلامی جمہوری نظام کی طاقت کے سامنے، ۔ جو علاقے اور دنیا میں اپنا اثرو رسوخ ثابت کرچکا ہے ۔ بے اثر اور بے نتیجہ رہی ہیں۔ اسی بنا پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے گروپ پانچ جمع ایک کے ارکان کو مشورہ دیا ہے کہ مذاکرات کے اس موقع سے فائدہ اٹھائيں اور اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری اور ایران کے سینئر ایٹمی مذاکرات کار سعید جلیلی نے ہفتے کے روز ملکی اور غیر ملکی نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران گروپ پانچ جمع ایک کی مذاکرات کی میز پر واپسی کا خیر مقدم کرتا ہے لیکن اس کو کافی نہیں سمجھتا کیونکہ مذاکرات جاری رکھنے کا لازمہ پہلے کا غلط رویہ ترک کرنا ہے اور یہ بات اس سے پہلے مذاکرات پھر سے شروع کرنے کی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹون کی درخواست کے جواب میں جولائی میں بھیجے گئے سعید جلیلی کے خط میں واضح کردی گئی تھی۔........./110