26 نومبر 2010 - 20:30

پاکستان کے صدر آصف علی زرادری توہین رسالت کی مرتکب عیسائی خاتون کی سزائے موت پر مسلمان اور عیسائیوں کی طرف سے سخت دباوٴ کا شکار ہیں۔

امریکی اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ایک طرف ویٹی کن نے اس پر توجہ مرکوز کردی ہے تو دوسری طرف مسلمان اکثریت کا حامل ملک میں احتجاج کا آغاز ہو گیا ہے۔اقلیتی امور کے وزیر نے صدر سے درخواست کی ہے کہ اگر عدالت میں فوری اس فیصلے کی اپیل نہیں سنی جاتی تو اس45سالہ آسیہ بی بی کو معاف یا رہا کردیا جائے۔انہوں نے اس قانون میں ترمیم کی بھی تجویز دی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق رپورٹ میں پوپ بینڈیکٹ ،انسانی حقوق کی تنظیمیں،اخبارات اور صوبائی گورنر کی طرف سے کی معافی کی درخواست پر آسیہ بی بی پہلی خاتون بن گئی جس کی توہین رسالت پر سزائے موت کی مذمت کی جا رہی ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

- توہین رسالت کی مرتکب آسیہ کو معافی ملی تو سخت احتجاج کرینگے

- عیسائی خاتون کی معافی کی اپیل پرصدر جلد دستخط کردیں گے

- توہینِ رسالت کی مرتکب خاتون کی رہائی کیلیے پوپ کی اپیل

منور حسن:

- کوئی گورنر یا صدر قانون توہین رسالت ختم نہیں کرسکتا / مختصر تبصرہ