5 نومبر 2010 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو امریکہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے کیس کے سلسلے میں اپنی ساکھ بچانے کی آزمائش کا سامنا ہے ۔

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر علی لاریجانی نے آج پارلیمنٹ کے اجلاس میں امریکہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کۓ جانے سے متعلق متعدد رپورٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پاس اطلاعات کی کمی نہیں ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں امریکہ میں انسانی حقوق سے متعلق عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں بہت زیادہ رپورٹیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی نے افراد کی گرفتاری کے موقع پر ان کے حقوق کی پامالی ، تشدد خاص طور پر امریکہ کی سیکورٹی کے بہانے گوانتانامو اور ابوغریب میں کۓ جانے والے تشدد ، امریکی فوجیوں اور نجی سیکورٹی کمپنیوں کے اہلکاروں کے مظالم خاص طور پر عراق اور افغانستان میں ان کے مظالم ، صیہونی حکومت کے ساتھ امریکہ کے مجرمانہ تعاون ، دہشتگردانہ کارروائیوں اور حکومتوں کو سرنگوں کرنے کے واقعات میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کے عمل دخل کو امریکہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی واضح علامات اور مثالیں قرار دیا ۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے امریکہ میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتائج کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ اس ملک کے حکام کو ان نتائج سے سبق حاصل کرنا چاہۓ کہ یہ انتخابی نتائج اسی طرح کے دہرے اور اذیت پہنچانے والے اقدامات کی صداۓ بازگشت ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110