3 نومبر 2010 - 20:30

سعودی نواز العراقیہ پارٹی کے رکن اور نائب صدر طارق الہاشمی نے ایک پریس کانفرنس میں ایران پر عراق کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام لگایا ہے جبکہ عراقی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت کی تشکیل عراق کا داخلی مسئلہ ہے اور سعودی عرب کی حکومت مداخلت نہ کرے۔

عراق کی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے سعودی عرب کے بادشاہ کی تجویز ٹھکرائے جانے کےبعد سعودی نواز العراقیہ پارٹی کے رکن اور نائب صدر طارق الہاشمی نے ایک پریس کانفرنس میں ایران پر عراق کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔ طارق الہاشمی نے الزام لگایا ہے کہ تہران ریاض کی تجویز کی شکست کا باعث ہے۔ یاد رہے سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ نے عراقی سیاسی پارٹیوں کو دعوت دی تھی کہ وہ ریاض میں اجلاس منعقد کرکے حکومت سازی کا مسئلہ حل کریں۔ العراقیہ کے رکن طارق الہاشمی نے سعودی عرب کی تجویز کو مثبت قراردیتے ہوئے کہا کہ اس سے عراق کے سیاسی بحران کو حل کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔ واضح رہے کہ سعودی نواز العراقیہ پارٹی کے سوا باقی تمام عراقی جماعتوں نے سعودی بادشاہ کی تجویز کو عراقی معاملات میں مداخلت قرار دے کر  ٹھکرا دیا تھا۔طارق الہاشمی نے عراق کی سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ سعودی دربار میں حاضری دیں!طارق الہاشمی سمیت العراقیہ گروپ کے دیگر ارکان کا یہ موقف ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ عراقی پارٹیوں نے نوری المالکی کی قیادت میں حکومت بنانے پر اتفاق کرلیا ہے۔ دریں اثناء العراقیہ کے منفی موقف کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کی کاروائيوں میں اضافہ بھی ہوا ہے جس کی وجہ سے عراقی حکومت بغداد میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر مجبور ہوگئي ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا پرتشدد ماحول بنانا عرب ملکوں اور ان سے وابستہ ٹولوں کی جانب سے عراق کی رائے عامہ اور عراق میں سعودی عرب کے مداخلت پسندانہ کردار کی طرف سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ قابل ذکر ہے کہ لبنان کے سیاسی گروپوں عراقی گروپوں کے سامنے ہے جہاں لبنانی گروپوں نے سعودی عرب کے شہر طائف میں اجلاس منعقد کیا تھا اور جس کے نتیجے میں اقلیتی گروپ اکثریت پر مسلط ہوگيا تھا؛ اسی بناپر عراقی گروپوں نے سعودی عرب میں صلاح و مشورہ کرنے کی سعودی بادشاہ کی پیشکش پوری طرح سے ٹھکراتے ہوئے تاکید کی ہے کہ وزارت عظمی کا عہدہ نوری المالکی کو اور صدارت کا عہدہ کردوں کو دیا جائے گا اور نتیجتاً العراقیہ گروپ شکست سے دوچار ہوا ہے بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ العراقیہ کے بہت سے ارکان نوری المالکی کی وزارت عظمی کے حامی بن گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر عراق میں مداخلت کا الزام لگانا اور دہشتگردی کو بڑھاوا دینا عراق میں اقلیت کو اکثریت پر مسلط کرنے کی سازش کا حصہ ہے لیکن عراق کے سیاسی گروپوں نے اس سازش کا اب تک ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر ایران پر مداخلت کا الزام لگانے اور دہشتگردی کو ہوا دینے کا مقصد عراق کے حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرنا ہے جبکہ  عراق میں دہشتگردی اور بدامنی کے پیچھے قابض ممالک اور بعض عرب ممالک کا ہاتھ ہے جو اس طریقے سے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دریں اثناء عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے که سعودی عرب عراقی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔ عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے سعودی عرب کی حکومت سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ عراقی حکومت کی تشکیل ایک داخلی مسئلہ ہے اور آپ اس میں مداخلت نہ کرے۔ عراقی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہوشیار زیباری نے کہا ہے کہ عراق موجودہ مشکلات سے نکلنے کے لیے قانونی اور عوامی اقدامات کرنے اور راستے تلاش کرنے پر قادر ہے لہذا ہمارے عرب بھائیوں خاص طور پر سعودی عرب کی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے اور صرف عراقی گروپوں کو سیاسی عمل میں حقیقی شرکت کی ترغیب دلا کر عراق کے اتحاد اور استحکام میں مدد دے۔ واضح رہے کہ قومی اتحاد اور کردستان اتحاد سمیت عراق کی اکثر سیاسی جماعتوں نے سعودی عرب کے فرمانروا کی اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے عراق کے حالات مزید پیچیدہ ہو جائيں گے۔ بشکریہ از ریڈیو تہران

........

/110

شاہ آل سعود کی تجویز مسترد ہونے پر:

بغداد میں 16 دھماکے؛ 500 کے قریب عراقی شہری جاں بحق اور زخمی