8 ستمبر 2010 - 19:30

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہاہے کہ بلوچستان میں اساتذہ،مزدوروں، دکانداروں اوردیگربے گناہ افرادکی ٹارگٹ کلنگ پرحکومت کاپیمانہٴ صبرلبریزہوچکا۔

رحمن ملک کا کہنا تھا کہ قیام امن کے لئے نوابزادہ حیربیار،براہمداغ بگٹی اورخیربخش مری سے رابطے کئے مگرمثبت جواب نہیں آیا،ہم نے پہلے پیارسے بات کی اب ایکشن ہوگااورنتیجہ قوم خوداپنی آنکھوں سے دیکھے گی، ان تمام عناصرکوآخری بارخبردارکررہے ہیں کہ وہ مذموم کارروائیوں سے باز آجائیں اورحکومت کے ساتھ مذاکرات کریں،آئندہ کسی نے قومی پرچم کی بے حرمتی کی تواسے معاف نہیں کیاجائیگا اورسخت ایکشن لیاجائیگا جس کاانہیں اندازہ نہیں ہے،اب حکومت ڈنڈا چلائے گی اور بلوچستان میں سوات طرز کی کارروائی کرینگے ، لاہور اور کوئٹہ کے دھماکوں میں لشکر جھنگوی ملوث ہے۔ وہ گزشتہ روز دو روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچنے کے بعد ائیرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔رحمن ملک نے کہا کہ حکومت تمام مذہبی جلوسوں کا احترام کرتی ہے اور کسی جلوس پر پابندی کی خواہش مند نہیں مگر جلوس محدود اور دیگر مذہبی پروگرام کسی بڑی چار دیواری کے اندر انجام دیئے جائیں تو حکومت تحفظ فراہم کرسکے گی، اس سلسلے میں عید کے بعد ملک کے تمام مسالک کے علمائے کرام سے ملاقات کروں گا، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ بہت ہو گئی، ہم نے پیار سے بات کی تاکہ لوگ خود صحیح راستے پر آجائیں، اب حکومت ڈنڈا چلائے گی تو صورتحال عوام اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس صوبے میں سیاسی جماعتوں کی جگہ مسلح لبریشن پارٹیاں لے لیں تو وہاں سیکورٹی فورسز کو کارروائیاں کرنی ہی پڑتی ہیں ۔اے پی پی کے مطابق رحمان ملک نے کہا کہ انہوں نے لندن میں نوابزادہ حیر بیار مری سے ملاقات کی، براہمداغ بگٹی سے بھی بلواسطہ بات چیت کی ہے اور نواب خیربخش مری کو بھی پیغامات بھیجے لیکن قیام امن کے لئے مذاکرات کے لئے ان کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا،وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بلوچستان میں اساتذہ ، مزدوروں ، دکانداوں اور دیگر بے گناہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ پر حکومت کا پیمانہ صبرلبریز ہو گیا ہے اور متشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے،رحمن ملک کاکہناتھا کہ جن افراد کے خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغواء کا واویلہ کیا جاتا ہے ان کی ایک تعداد دبئی ، سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں قیام پذیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو خراب کرنے میں غیر ملکی پیسہ استعمال ہو رہا ہے اور غیر ملکی ہاتھ پوری طرح ملوث ہے ۔این این آئی کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ میں آخری بار ان تمام عناصر کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ اپنی مذموم کارروائیوں سے باز آجائیں ورنہ ان کیخلاف بہت سخت ایکشن لیاجائیگا جس کا انہیں اندازہ نہیں ہے،میں ایک بات دوبارہ واضح کرتا ہوں کہ اگر آئندہ کسی نے پاکستان کاپرچم اتار کر اس کی بے حرمتی یا جلانے کی کوشش کی تو اسے کسی صورت معاف نہیں کیاجائیگا میں تمام جماعتو ں کو پاکستان کے سبز جھنڈے تلے مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں۔  

۔۔۔۔۔

/110