17 ستمبر 2010 - 19:30

یہ دہشت گردانہ کاروائی ایسے حال میں ہوئی جب زائرین امام موسی کاظم علیہ السلام کے حرم شریف میں مشرف ہونے کے لئے تیاری کررہے تھے؛ اس کاروائی میں فرزند رسول (ص) کے 9 زائرین شہید اور 50 زخمی ہوگئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی حکام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ بغداد میں دہشت گردوں کی طرف سے کئی مارٹر حملوں اور بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 9 شیعہ زائرین شہید اور 50 زخمی ہوگئے ہیں۔ ان حملوں میں کاظمین کی طرف روانہ ہونے والے شیعہ زائرین کو نشانہ بنایا گیا۔ابھی تک دہشت گردوں کے کسی خاص گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ سیکورٹی فورسز نے ان حملوں کی تفصیلات اور عوامل کی شناخت کی غرض سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ امریکیون کے قبضے سے لے کر اب تک عراق میں لاکھوں افراد کا قتل عام ہوا ہے اور صرف گذشتہ چھ مہینوں کے دوران 2405 عراقی باشندے تشدد کی مختلف کاروائیوں میں جاں بحق ہوگئی ہیں۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق سات سالہ بیرونی قبضے کے دوران جان بحق ہونے والے عراقیوں کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور اس وسیع قتل عام کا اصل سبب امریکی قبضہ ہے۔ اس وسیع کشت وخون میں امریکی و مغربی فورسز سمیت سعودی و دیگر عرب دہشت گرد قوتوں نے بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے دشمن سے اپنے عہد کی پابندی کا ثبوت فراہم کرکے یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ عراق کو امن و امان کے قیام کے لئے بیرونی افواج کی ضرورت ہے؛ تا کہ دشمن فوجیں عراق میں طویل المدت قیام کے لئے جواز فراہم فراہم کرسکیں۔دریں اثناء کل کاظمین شریف میں بھی ایک سعودی دہشت گرد گرفتار کرلیا گیا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق مذکورہ دہشت گرد کا تعلق سعودی عرب سے ہے جو پیدل چل کر کاظمین آنے والے زائرین کے ایک گروہ کو خودکش کاروائی کا نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔تفصیل کے لئے کلک کریں:٭ کاظمین شریف میں بھی ایک سعودی دہشت گرد گرفتار

دریں اثناء عراقی رکن پارلیمان نے کہا ہےکہ سعودی عرب عراق میں عدم استحکام اور بدامنی پھیلانے کےلئے دہشتگرد بھیج رہا ہے۔

قومی اتحاد کے رکن عامر ثامر نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ عراق میں  پکڑے گئے اکثر دہشتگردوں کاتعلق سعودی عرب سے ہے جنہیں بے گناہوں کو قتل کرنے کےلئے عراق بھیجا جاتاہے۔

عامر ثامر نے کہا کہ حکومت بغداد کو سعودی عرب جیسے ملکوں کےساتھ  سخت رویہ اپنانا چاہیے۔.........

/110