17 اگست 2010 - 19:30

صہیونی ریاست کے انتہاپسند وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ترکی اسرائیل کے حوالے سے اپنے رویوں کے انتخاب میں انقلاب اسلامی کے بتائے ہوئے نمونۂ عمل سے استفادہ کررہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آویگدر لیبرمین (Avigdor Lieberman)  نے صہیونی روزنامے یدیعوت آحارانوت سے بات چیت کرتے ہوئے حالیہ واقعات کے سلسلے میں کہا: اسرائیل کے مقابلے میں ترکی کی موجودہ حالت ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے زمانے سے مشابہت رکھتی ہے۔لیبرمین نے کہا: ہمیں خود اپنے اوپر ہی ملامت کرنی چاہئے کہ ہمارے سامنے (امام) خمینی نے اقتدار سنبھالا جبکہ اس سے قبل ایران اسرائیل کا تزویری حلیف (Strategic Ally) تھا لیکن اس کے بعد واقعہ یوں ہوا کہ ایران نے اسرائیل کے سلسلے میں اپنی پالیسی بدل دی اور آج ترکی کی حکمت عملی بھی اسی سمت میں جارہی ہے اور ترکی بھی وہی رویئے اور پالیسیاں اپنانے لگا ہے۔ ترکی کی پالیسیاں ـ کم از کم اسرائیل کے مقابلے میں ـ ایران سے مشابہت رکھتی ہیں اور اس وقت ہمیں بھی معلوم ہوسکا ہے کہ کشتیاں غزہ روانہ کرنے کا ترکی کا منصوبہ ایک اشتعال انگیز منصوبہ تھا!!!......./110