17 جولائی 2010 - 19:30

جنوبی افغانستان میں نیٹو فوج کے سربراہ میجر جنرل نک کارٹر نے کہا ہےکہ افغانستان میں نجی سیکیورٹی کمپنیاں بد نظمی، بے ضابطگي اور کرپشن کی ذمہ دار ہیں۔

 برطانیہ کے اس سینئر جنرل نے رشیا ٹوڈے ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ بیرونی نجی سکیورٹی کمپنیاں قانونی کی پابندی نہیں کرتيں ۔ برطانوی جنرل نے کہا کہ نیٹو اور ایساف فورسس قندھار میں ان کمپنیوں کےخلاف کاروائیاں کریں گی۔

 انہوں نے نیٹو کواس لاقانونیت کا ذمہ دارقراردیا کیونکہ نیٹو نے رسد کاسامان پرائیویٹ ٹیکھیداروں کودیاہے جو نجی سیکیورٹی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کو ترجیح دیتےہیں۔ انہوں نےکہا کہ نجی سیکورٹی کمپینوں کےاھلکاروں کی تعداد امریکی فوجیوں سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کے مقامی کارکنوں کو قومی فوج سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے ۔

 اس برطانوی جنرل نے کہا نیٹو نے افغانستان میں مرکزی حکومت کو استحکام نہیں پہنچاہے لھذا اب ان کمپنیون کو قانون کے دائرے مین لانا بڑا مشکل ہے۔ یادرہے امریکہ اور اس کےاتحادیوں نے طالبان، القاعدہ اور منیشات سے مقابلہ کرنے کےبہانے افغانستان پرقبضہ کیا تھالیکن بیرونی فوجی قبضے نے افغانستاں کاکوئي مسئلہ حل کرنے کےبجائے اس ملک کے عوام کو مزید بحرانوں میں دھکیل دیاہے۔

....................

/152