16 اکتوبر 2026 - 15:39
دی اٹلانٹک: امریکی ری پبلکن تارکین وطن کو سفید فام اور عیسائی دیکھنا چاہتے ہیں

امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے ری پبلکن پارٹی میں بڑھتے ہوئے ایسے بیانیے پر تنقید کی ہے جس میں تارکین وطن کی معاشی کامیابی اور سماجی شراکت کے بجائے ان کی نسل اور مذہب کی بنیاد پر امریکی معاشرے میں قبولیت کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی تارکین وطن سے متعلق پالیسی اب سرحدوں پر پابندیاں سخت کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکی شناخت کی نئی تعریف متعین کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس دوران ری پبلکن پارٹی میں فروغ پاتا ہوا بیانیہ امریکی معاشرے سے تعلق کو نسل اور مذہب سے جوڑ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں غیر سفید فام تارکین وطن کی معاشی اور تعلیمی کامیابیوں اور اپنی برادریوں میں ان کی سماجی شراکت کے باوجود امریکی معاشرے میں ان کے گھلنے ملنے پر شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں۔

دی اٹلانٹک میں اس مضمون کے مصنف آدم سروَر نے لکھا ہے کہ ری پبلکن پارٹی، جو کبھی امریکہ کو دنیا بھر سے آنے والے تارکین وطن کے لیے پناہ گاہ قرار دیتی تھی، اب وہ پارٹی نہیں رہی۔ ان کے مطابق، اب یہ جماعت عمومی طور پر تارکین وطن کو ایک مسئلے کے طور پر دیکھتی ہے، خصوصاً ان افراد کو جو سفید فام نہیں ہیں، خواہ وہ ماہر اور ہنرمند ہی کیوں نہ ہوں۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ری پبلکن پارٹی کے نزدیک قابل قبول تارک وطن کی تصویر بتدریج ایک سفید فام اور عیسائی شخص کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سروَر نے اس کی مثال دیتے ہوئے امریکی محکمہ داخلی سلامتی کی جانب سے شہریت اور تارکین وطن کی تعداد میں کمی کا خیرمقدم کرنے اور فاکس نیوز کی جانب سے مسلم اکثریتی ممالک سے امریکہ آنے والے تارکین وطن کی تعداد گھٹنے کو سراہنے کا ذکر کیا ہے۔

معیشت اور سماجی اخراج کے درمیان

سروَر نے نشاندہی کی ہے کہ امریکہ کے متعدد علاقوں میں آبادی کم ہو رہی ہے اور اپنی معیشت کو بحال کرنے کے لیے انہیں تارکین وطن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ریاست اوہائیو کے بعض علاقوں کا حوالہ دیا، جہاں ہیٹی سے آنے والے تارکین وطن نے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد کی ہے۔

اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے عارضی تحفظ کی وہ حیثیت ختم کر دی ہے جس کے تحت ہیٹی کے شہریوں کو امریکہ میں رہنے کی اجازت حاصل تھی۔ امریکی حکام نے ان میں سے بعض افراد کے ٹخنوں کے گرد الیکٹرانک نگرانی کے آلات لگانا بھی شروع کر دیے ہیں۔

مصنف نے یہ بھی لکھا ہے کہ ٹرمپ حکومت نے پناہ گزینوں کی قبولیت کا عمل بڑی حد تک جنوبی افریقہ کے سفید فام باشندوں پر مرکوز کر دیا ہے، جبکہ دوسرے ممالک سے آنے والی پناہ کی بیشتر درخواستوں پر کارروائی روک دی گئی ہے۔

سروَر کے مطابق، یہ طرزِ عمل ری پبلکن پارٹی کے بیانیے میں ایک تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ غریب تارک وطن پر ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا جاتا ہے، جبکہ کامیاب اور ملازمت کرنے والے تارک وطن کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ امریکی شہریوں سے روزگار کے مواقع چھین رہے ہوں۔

نسلی اور مذہبی پیمانے

اس مضمون میں ریاست ٹیکساس کے ریلوے کمیشن کی رکنیت کے امیدوار بو فرنچ کے بیانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ٹیکساس کی فٹ بال ٹیم کی جیت کا جشن منانے والے ایشیائی طلبہ کی ایک تصویر پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ غیر ملکی امریکیوں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔

تاہم، ری پبلکن اکثریت والی اس ریاست کے قانون کے مطابق یونیورسٹی کے 90 فیصد طلبہ کا ٹیکساس سے ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، فرنچ کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ تصویر میں دکھائی دینے والے طلبہ کن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

سروَر کا خیال ہے کہ فرنچ نے ان طلبہ کو غیر ملکی ان کی نسلی ظاہری شکل کی بنیاد پر سمجھا۔ حالانکہ اپنی یونیورسٹی کی ٹیم کی جیت کا جشن منانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ مقامی ثقافت سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا کہ قدامت پسند کارکن معاشرے میں ضم ہونے کے تصور کو تیزی سے مخصوص گروہوں کو خارج کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ایسا ان افراد کے بارے میں بھی کیا جاتا ہے جو تعلیم حاصل کرتے ہیں، ملازمت کرتے ہیں، انگریزی بولتے ہیں اور عوامی زندگی میں حصہ لیتے ہیں۔

مصنف نے اس رجحان کو نام نہاد ’’نسل سے لاتعلقی‘‘ یا رنگ و نسل کو نظر انداز کرنے کے بیانیے سے جوڑا ہے۔ یہ بیانیہ ایک طرف امتیازی سلوک کے خلاف پالیسیوں کی مخالفت کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف غیر سفید فام افراد کی کامیابیوں پر بھی شکوک پیدا کرتا ہے۔

ان کے مطابق، ماضی میں یہی منطق سیاہ فام افراد کو معاشرے سے باہر رکھنے کے جواز کے طور پر استعمال کی گئی تھی، اور بعد میں جب ایشیائی نژاد امریکیوں نے تعلیم اور معیشت کے میدان میں کامیابیاں حاصل کیں تو یہی رویہ ان کے خلاف بھی اپنایا جانے لگا۔

اخراج کا بیانیہ پھیل رہا ہے

سروَر نے یاد دلایا ہے کہ ٹیکساس میں ری پبلکن پارٹی کی کئی اہم شخصیات، جن میں ریاست کے ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ اور نائب گورنر ڈین پیٹرک شامل ہیں، نے فرنچ کے بیانات کی واضح الفاظ میں مذمت نہیں کی۔ اس کے برعکس، سابق سینیٹر جان کورنن نے ان کے بیان کو ری پبلکن پارٹی کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا۔

ری پبلکن پارٹی کے سابق مشیر کارل روو نے بھی جماعت کے اندر انتہا پسند شخصیات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تنقید کی ہے۔ تاہم، سروَر نے مضمون کے اختتام پر نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اب یہ خیالات محض حاشیے تک محدود نہیں رہے بلکہ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی دھارے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

مضمون میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ سے تعلق کو نسل اور مذہب سے جوڑنا شہریت کے بنیادی اصول کے لیے خطرہ ہے۔ اس طرزِ فکر میں غیر سفید فام تارکین وطن کی کامیابیوں کو معاشرے میں ان کے انضمام اور شراکت کی علامت سمجھنے کے بجائے ان کے بارے میں بدگمانی کی وجہ بنا دیا جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha