15 اکتوبر 2026 - 15:33
زیلنسکی کی روسی تیل تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی، حملے روکنے کے بدلے پیٹریاٹ میزائلوں کا مطالبہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ روسی تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر حملوں سے متعلق پابندیاں ختم ہو چکی ہیں اور حملے دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین ان حملوں کو صرف اسی صورت میں روکے گا جب امریکہ اس کے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے لیے مزید میزائل فراہم کرے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آج شائع ہونے والے اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کیف روس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کرے گا۔

زیلنسکی نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر حملوں کی پابندی ختم ہو چکی ہے، اب یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔‘‘

یوکرین کے صدر نے اس انٹرویو میں روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کی واشنگٹن کی خواہش اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی تعریف کرنے پر بھی تنقید کی۔

ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان تازہ ترین کشیدگی کے دوران امریکی صدر نے ہفتے کے روز یوکرین کے صدر کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا اور روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر کیف کے حملوں پر تنقید کی۔

ٹرمپ کے یہ بیانات روس سے ڈیزل حاصل کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کرنے کے ایک روز بعد سامنے آئے۔ اس معاہدے کا مقصد ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو کم کرنا ہے، جو فروری میں ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے تیزی سے بڑھی ہیں۔

زیلنسکی اس سے قبل سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں بتا چکے تھے کہ ٹرمپ کی جانب سے توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد یوکرین نے دو روز کے لیے روس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات اور توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملے روک دیے تھے۔

زیلنسکی نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ اس دوران یوکرینی فوج کو روسی بیلسٹک میزائلوں کے حملوں سے متعلق امریکہ کی جانب سے پہلے سے دی جانے والی تنبیہات موصول ہونا بند ہو گئی تھیں۔ اسی وقت پورے یوکرین میں اسٹارلنک سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کی رفتار بھی کم ہو گئی تھی، جس سے اگلے مورچوں پر فوجی کارروائیاں اور روسی فوجی ٹھکانوں پر درمیانے فاصلے سے حملے متاثر ہوئے۔

امریکہ کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بند کرنے کی دھمکی

زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے فوجی حکام کو ان کے امریکی ہم منصبوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند نہ کیے گئے تو واشنگٹن کیف کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ روک دے گا۔

ان کے مطابق، بعد میں یوکرینی فریق کو بتایا گیا کہ یہ صورت حال ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی، تاہم زیلنسکی نے اس وضاحت کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد کر دیا کہ اسٹارلنک کے سیٹلائٹ نظام میں خلل کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا۔

زیلنسکی نے کہا: ’’یہ سب ان کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوا تھا۔‘‘

فنانشل ٹائمز کے مطابق، جب زیلنسکی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے پر آمادہ ہیں، تو انہوں نے کہا کہ وہ صرف اسی صورت میں ایسا کریں گے جب اس کے بدلے امریکہ کے تیار کردہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے لیے مزید میزائل فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے ان میزائلوں کی فراہمی کو حملے روکنے کے لیے کم از کم قابلِ قبول رعایت قرار دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha