15 اکتوبر 2026 - 15:26
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ کی لبنانی حکام کو وارننگ، مزاحمت کے خلاف اقدامات بند کریں

لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے وفاداری برائے مزاحمت دھڑے کے رکن حسن فضل اللہ نے مزاحمت سے وابستہ گاڑی ضبط کیے جانے کے واقعے پر لبنانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ مزاحمت اور اس کے کارکنوں کے خلاف اقدامات فوری طور پر بند کریں، بصورت دیگر ان کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے وفاداری برائے مزاحمت دھڑے کے رکن حسن فضل اللہ نے ملک کے حکام کو مزاحمت اور اس کے کارکنوں کے خلاف اقدامات کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اقدامات واپس لیں۔

حسن فضل اللہ نے لبنانی پارلیمنٹ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ظہر البیدر کی چیک پوسٹ پر مزاحمت سے وابستہ ایک گاڑی کو روکنے، اس میں موجود سامان ضبط کرنے اور گاڑی میں سوار افراد کو حراست میں لینے کی تفصیلات بیان کیں۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت سے وابستہ ایک گاڑی کو ظہر البیدر کی چیک پوسٹ پر روکا گیا اور اس میں سے ایسا سامان ضبط کیا گیا جس کے استعمال کی نوعیت مقبوضہ علاقوں میں موجود دشمن کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں واضح ہے۔

لبنانی رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ گاڑی روکے جانے کے ابتدائی لمحات ہی میں مزاحمت نے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ گاڑی اس کی ملکیت ہے اور اس میں موجود سامان بھی قبضے کے خلاف مزاحمت کے لیے استعمال ہونے والے آلات میں شامل ہے۔ مزاحمت نے گاڑی اور اس میں موجود سامان واپس کرنے کے ساتھ زیر حراست افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

فضل اللہ نے زور دیا کہ اگر لبنانی حکام ان عناصر کی شناخت کرنا چاہتے ہیں جو یہ آلات استعمال کرتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو ان کی شناخت واضح ہے۔ ان میں مزاحمت کی قیادت سے لے کر اس کے عوامی حلقے، شہداء کے خاندان اور اگلے مورچوں پر تعینات مزاحمتی کارکن شامل ہیں۔

بعض سرکاری اداروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شکوک و شبہات پر مبنی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرضی کارنامے دکھانے اور تحقیقات و ان کے طریقۂ کار کے بارے میں من گھڑت منظرنامے پیش کرنے کی کوششیں معلوم حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔

فضل اللہ نے کہا کہ بعض حکام اسرائیل اور امریکہ کے مطالبات کے مطابق فیصلے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اس نوعیت کے اقدامات ملک کو تباہی کی طرف لے جائیں گے۔

انہوں نے ان حکام کو خبردار کیا کہ وہ داخلی امن برقرار رکھنے کے لیے مزاحمت کے عزم سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کوششوں کو آگے نہ بڑھائیں۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ہم لبنانی حکام کو ان اقدامات کے تسلسل کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد خطرات کا ادراک کریں اور اپنے فیصلوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔ ملک کے لیے مخلص تمام حلقے جس بات چیت پر زور دیتے ہیں، اس نوعیت کا طرزِ عمل اس کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

حزب اللہ کے اس رکن پارلیمنٹ نے مزید تاکید کی کہ مزاحمت کے ہتھیار صرف اسرائیلی دشمن کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ خصوصاً دھماکہ خیز مواد ایک مؤثر ہتھیار ہے جس سے اسرائیل خوف زدہ ہے اور خود بھی اس کے بارے میں بات کرتا ہے۔

حسن فضل اللہ نے گاڑی ضبط کیے جانے کے واقعے کو قتل کی منصوبہ بندی سے جوڑنے کی لبنانی وزیر اعظم اور بعض سیاسی حلقوں کی کوششوں کو اشتعال انگیز مہم کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، اس مہم کا مقصد لبنانی عوام کے درمیان اختلافات اور تقسیم کو مزید بڑھانا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha