11 اکتوبر 2026 - 16:02
کشمیری عالم دین: فلسطین میں جاری جرائم پر بعض اسلامی ممالک کی خاموشی ناقابل قبول ہے

کشمیری عالم دین حجۃ الاسلام سید محمد ہادی موسوی نے یمن اور فلسطین کی صورتحال کے حوالے سے بعض اسلامی ممالک کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی، اسلامی دنیا کے اختلافات کے حل اور فلسطینی عوام کی حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کشمیری عالم دین حجۃ الاسلام سید محمد ہادی موسوی نے اسلامی دنیا کی موجودہ صورتحال، یمن کی صورتحال، اسلامی دھڑوں کے درمیان اختلافات اور علاقائی بحرانوں کے حوالے سے بعض مسلم ممالک کے طرز عمل کا جائزہ لیتے ہوئے امن کے قیام، کشیدگی میں کمی اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ کوششوں پر زور دیا۔

انہوں نے یمن میں موجود اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑی اسلامی ریاستوں اور اسلامی دنیا کی بااثر شخصیات کی ذمہ داری تھی کہ وہ قرآن کریم کی تعلیمات کی بنیاد پر فریقین کے درمیان تعلقات کی اصلاح اور امن و مفاہمت کے قیام کے لیے کوشش کریں۔

انہوں نے بعض اسلامی ممالک کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے طرز عمل نے اختلافات کم کرنے اور باہمی مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے خطے میں کشیدگی اور دوریوں کو مزید بڑھایا ہے۔

اس کشمیری عالم دین نے فلسطین میں شہریوں کے قتل اور حملوں کے تسلسل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم پر بعض اسلامی ممالک کی خاموشی اور بے عملی پر تنقید کی۔

انہوں نے فلسطینی عوام کی حمایت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب فلسطینی عوام قتل، تشدد اور بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، بعض اسلامی ممالک اس مظلوم قوم کی حمایت میں مؤثر اور مناسب کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

حجۃ الاسلام سید محمد ہادی موسوی نے انصار اللہ یمن کے اقدامات پر بعض اسلامی ممالک کے ردعمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف فلسطینی عوام کو بڑے پیمانے پر حملوں کا سامنا ہے، جبکہ دوسری طرف یمن کے دفاعی اقدامات پر بعض مسلم ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آتا ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ حملے کا سامنا کرنے کی صورت میں دفاع کے حق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور خطے کی صورتحال کا جائزہ ہر واقعے کے پس منظر، حالات اور مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا جانا چاہیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سعودی حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور اس بات پر زور دیا کہ سعودی حکومت کو اسلام اور اسلامی تعلیمات کی حقیقی نمائندہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے حکمرانوں میں موجود بدعنوانی واضح ہے۔

حجۃ الاسلام سید محمد ہادی موسوی نے اپنے خطاب کے اختتام پر مسلمانوں کو پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کی سیرت اور تعلیمات کی پیروی کی دعوت دی اور اتحاد برقرار رکھنے، باہمی یکجہتی مضبوط بنانے اور اختلافات سے گریز کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مختلف اسلامی مذاہب اور مکاتب فکر کے علما سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کے فروغ، باہمی اتحاد کو مضبوط بنانے اور اختلافات کم کرنے کے لیے کوشش کریں۔

کشمیری عالم دین نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں اسلامی دنیا کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی اور اختلافات کے حل کے لیے مشترکہ تعاون خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول، علما قرآن کریم کی تعلیمات اور پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت کی بنیاد پر کشیدگی کم کرنے، اسلامی اتحاد مضبوط بنانے اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha