اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، افغانستان کے صوبہ ہرات میں طالبان کے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے محکمے نے اعلان کیا ہے کہ اس صوبے میں پتنگیں اور پتنگ اڑانے کا سامان خریدنے اور فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ پتنگ اڑانے پر بھی پابندی ہے۔
ہرات میں طالبان کے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سربراہ عزیزالرحمان مہاجر نے کہا کہ یہ پابندی شہریوں کی جانب سے کی جانے والی بار بار کی درخواستوں کی بنیاد پر عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کے اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہر میں پتنگوں اور ان کی ڈور کی فروخت کو روکا جائے۔
مہاجر کے مطابق، عوام کی جانب سے پتنگ اڑانے سے پیدا ہونے والی پریشانی کی شکایات اور اس سرگرمی کو روکنے کے لیے بار بار کی جانے والی درخواستوں کے بعد عوامی مقامات پر پتنگ اڑانے اور اس کی ڈور فروخت کرنے پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مہاجر نے دعویٰ کیا کہ بعض صورتوں میں پتنگ اڑانے اور اس کی ڈور کے باعث ٹریفک حادثات، شہریوں کو پریشانی اور بچوں کے زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں۔
یہ پابندی طالبان کے افغانستان پر پہلی حکومت کے دور، یعنی 1375 سے 1380 ہجری شمسی کے دوران اختیار کی گئی سخت پالیسیوں کی یاد دلاتی ہے۔ اس دور میں بھی پتنگ اڑانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس وقت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت کی جانب سے اس پابندی کے لیے مختلف وجوہات بیان کی جاتی تھیں، جن میں یہ مؤقف بھی شامل تھا کہ پتنگ بازی جوا اور شرط لگانے کا سبب بنتی ہے، بچوں کو تعلیم اور نماز سے دور کرتی ہے، چھتوں سے گرنے کا خطرہ پیدا کرتی ہے اور یہاں تک کہ لوگوں کو ہمسایوں کے گھروں کے صحن میں جھانکنے کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس دور میں پتنگیں فروخت کرنے والی دکانیں بند کر دی جاتی تھیں اور ان کا سامان جلا دیا جاتا تھا، جبکہ فروخت کنندگان کو گرفتار کرکے قید بھی کیا جاتا تھا۔ پتنگ اڑاتے ہوئے نظر آنے والے افراد کو بھی مارا پیٹا جاتا تھا۔
طالبان کی پہلی حکومت کے دور میں پتنگ بازی پر پابندی ان وسیع پابندیوں کا حصہ تھی جن میں موسیقی، ٹیلی ویژن، پرندے پالنے اور افغانستان کے عوام کی بہت سی روایتی تفریحات بھی شامل تھیں۔
1380 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پتنگ بازی افغانستان کی مقبول ترین روایتی تفریحات میں دوبارہ شامل ہوگئی، خصوصاً کابل اور بڑے شہروں میں اس کا رواج بڑھا اور یہ آزادی کی علامت بھی بن گئی۔ تاہم 1400 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اس گروہ نے ایک بار پھر بہت سے مقامی اور روایتی کھیلوں اور تفریحات پر پابندی عائد کرنا شروع کر دی ہے اور اس کے لیے بدامنی اور شہریوں کے لیے پریشانی پیدا ہونے کو جواز بنایا جاتا ہے۔
آپ کا تبصرہ