27 ستمبر 2026 - 16:32
لیبیا میں ترکی کے بڑھتے فوجی و سیاسی اثر و رسوخ پر اسرائیل کو شدید تشویش

ایک عبرانی میڈیا ادارے نے لیبیا میں ترکی کے بڑھتے ہوئے فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ پر صیہونی ریاست کے سکیورٹی اداروں کی بڑھتی تشویش کی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب کو خطے میں اپنے مفادات پر اس کے ممکنہ اثرات پر بھی تشویش ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی میڈیا ’’والا‘‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صیہونی حکومت کی فوج کی ملٹری انٹیلی جنس، موساد اور اس کی بحریہ کے انٹیلی جنس ادارے ’’لیبیا کوریڈور‘‘ کے نام سے معروف پیش رفت اور لیبیا میں ترکی کی موجودگی پر پہلے سے زیادہ توجہ کے ساتھ نظر رکھ رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ترکی اور لیبیا کے درمیان معاہدہ مقبوضہ علاقوں سے قبرص، یونان اور پھر یورپ تک گیس کی منتقلی کے لیے بچھائی جانے والی پائپ لائن کی تکمیل میں رکاوٹ بن سکتا ہے یا کم از کم اس کے نفاذ میں خلل ڈال سکتا ہے۔

اس عبرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی کے اعلیٰ عہدیدار خطے میں ترکی کی سرگرمیوں کو صیہونی حکومت کو محدود اور تنہا کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھتے ہیں۔

اسرائیلی ذرائع کی رپورٹس کے مطابق، ترکی اس وقت لیبیا میں فضائی اور بحری فوجی موجودگی رکھتا ہے جبکہ اس کے فوجی مشیر بھی لیبیا میں تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کے اعلیٰ فوجی کمانڈر مسلسل لیبیا کے دورے کرتے رہتے ہیں۔

یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ اور شام کی صورت حال کے معاملے پر حالیہ دنوں میں انقرہ اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور تل ابیب کا دعویٰ ہے کہ ترکی اسرائیلی مفادات کے خلاف خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha