17 جولائی 2010 - 19:30

بینی اونی نے نیویارک پوسٹ میں چھپنے والے ایک مضمون میں "احمدی نژاد، ایک بار فتحیاب ہوگئے" کے زیر عنوان لکھا: احمدی نژاد نے گذشتہ روز ایک منصوبہ بندی شدہ ڈوئل میں صرف اپنی موجودگی سے ہی ہلیری کلنٹن کو شکست دے دی۔

اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بینی اونی نے نیویارک پوسٹ میں چھپنے والے مضمون میں لکھا: یہ اوباما کے احمقانہ اقدام کا مکمل نمونہ تھا جنہوں  نے بقول بینی اونی کے، ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار کا راستہ روکنے کے لئے اقوام متحدہ کو اوزار کے طور پر استعمال کیا۔ اس امریکی روزنامے نے امریکی تکبر و استکبار کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: پہلی اہم بات تو یہ تھی کہ احمدی نژاد اجلاس سے خطاب کرنے والے پہلے راہنما تھے اور دوسری بات یہ تھی کہ وہاں پروٹوکول کی وجہ سے سب مجبور تھے کہ ایرانی صدر کو "عالیجناب احمدی نژاد" کہہ کر پکاریں۔روزنامے کے مطابق اجلاس میں این پی ٹی پر دستخط کرنے والے 180 ممالک کے مندوبین حاضر تھے جنہیں امید تھی کہ ہلیری کلنٹن "ایٹمی ہتھیاروں  سے عاری مشرق وسطی" کے قیام اور اسرائیل کو اجلاس کے ساتھ چلنے کے حوالے سے زیادہ پرمغزتقریر کرکے دکھائیں لیکن یہ امید مضحکہ خیز تھی کیونکہ اگر این پی ٹی کی منظوری کی ابتداء سے اس مسئلے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی امریکی صدر نے اسرائیل کے این پی ٹی میں شامل ہونے اور اپنی ایٹمی تنصیبات کے دروازے کھولنے کی غرض سے اسرائیل پر کبھی بھی دباؤ نہیں ڈالا۔ اگر این پی ٹی امریکی پالیسی کا سنگ بنیاد ہے ـ جیسا کہ کل کلنٹن نے اعلان کیا ـ تو حقیقت یہ ہے کہ ایران فتحیاب ہوگیا ہے۔ کل امریکی وزیر خارجہ کو اس امریکی دعوے کے جواب میں ـ کہ امریکہ نے این پی ٹی کی اتنی ہی خلاف ورزی کی ہے جتنی کہ ایران نے کی ہے ـ نہایت غم انگیز انداز سے جواب دیا کہ "امریکہ بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرے گا"۔ اس سے قبل اوباما نے روس کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں  میں کمی کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے تھے اور (بقول ان کے) دہشت گردوں  کو ایٹمی ہتھیاروں سے دور رکھنے کے لئے واشنگٹن کا اجلاس بلایا لیکن کل اکثر ممالک اس حوالے سے ایران کے ساتھ متفق نظر آئے کہ "امریکی اقدامات ناکافی ہیں"۔ احمدی نژاد نے کہا: امریکہ پہلا ملک ہے جس نے ایٹمی ہتھیار بنایا اور وہ واحد ملک ہے جس نے ایٹمی ہتھیار استعمال کیا۔ اخبار نے لکھا: احمدی نژاد ـ جنہوں  نے کئی بار اسرائیل کو روئے زمین سے مٹادینے کی بات کی ہے کہتے ہیں کہ جو ملک ایران کی پرامن ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرے اس کو سزا ملنی چاہئے۔ انھوں  نے ایران اور صہیونی ریاست کے ساتھ مغرب کے دہرے رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: صہیونی ریاست کے پاس سینکڑوں ایٹمی وارہیڈ ہیں اور کلنٹن نے احمدی نژاد کے موقف کو مسترد کیا مگر ایٹمی ہتھیاروں  سے پاک مشرق وسطی کا مہمل موضوع چھیڑ کر انھوں  نے درحقیقت احمدی نژاد کے موقف کی تصدیق کردی۔نیویارک پوسٹ کے مطابق "حتی اس وقت بھی جبکہ اوباما نے اسرائیل کے مبہم ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لئے واضح کوششوں  کا آغاز کیا ہے، کلنٹن کی یہ باتیں احمدی نژاد کو مزید جرأت دیں گی کہ وہ دنیا کو یہ جتانے کی کوشش کریں کہ ایران ترقی کرتی ہوئی عالمی طاقت ہے جبکہ مغرب رو بہ زوال ہے۔ .........

/110