اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے خطے میں امریکی بحریہ کے لاجسٹک اور سپلائی نظام کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے، جبکہ جنگی جہازوں کے لیے ایندھن، خوراک اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں نے خطے میں امریکی بحریہ کے روایتی لاجسٹک نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خطے میں موجود امریکی بحری بیڑے کو ہر ہفتے 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد کھانوں کے لیے خوراک اور تقریباً 80 لاکھ گیلن ایندھن درکار ہوتا ہے، جس کی مسلسل فراہمی اب مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے حملوں کے باعث بحرین میں امریکی بحریہ کا ایک اہم لاجسٹک اڈہ بھی سپلائی کے لیے دستیاب نہیں رہا، جبکہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے نے خطے کے بعض دیگر بندرگاہوں اور فوجی اڈوں تک رسائی بھی مشکل بنا دی ہے۔
قریب کے اڈوں سے رسد حاصل کرنے میں رکاوٹ کے باعث امریکی بحریہ کو اپنے جنگی جہازوں کو سمندر ہی میں تقریباً ہر پانچ یا چھ روز بعد دوبارہ ایندھن اور ضروری سامان فراہم کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سمندر میں متحرک جنگی جہازوں تک ایندھن، خوراک اور دیگر سامان پہنچانا انتہائی پیچیدہ اور خطرناک عمل بن چکا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر خطے میں موجود قریبی سپلائی راستے اسی طرح متاثر رہے تو امریکی بحریہ کو متبادل کے طور پر اپنے سپلائی جہاز سنگاپور کی جانب بھیجنا پڑ سکتے ہیں، جو تقریباً 3 ہزار 700 میل دور ہے اور اس کے لیے مصروف آبنائے ملاکا سے گزرنا ہوگا۔
ایک اور متبادل راستہ بحر ہند میں واقع جزیرہ ڈیگو گارشیا قرار دیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی رسدی جہازوں کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں موجود جنگی بحری جہازوں تک ایندھن اور دیگر سامان پہنچانے کے لیے اب تقریباً 2 ہزار 200 میل کا فاصلہ طے کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے حملوں کا اثر صرف امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے خطے میں امریکی فوج کے پورے سپلائی اور لاجسٹک نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، اور طویل عرصے تک اس صورتحال کو برقرار رکھنا امریکی بحریہ کے لیے مشکل ہوسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ