18 اگست 2026 - 15:33
امریکی جنرل کا اعتراف: بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں

امریکی فوج کے ایک اعلیٰ جنرل نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا کے اندر موجود کئی فوجی اڈے چھوٹے ڈرونز کے بڑے پیمانے پر حملوں سے نمٹنے کے لیے نہ تو مناسب طور پر تیار ہیں اور نہ ہی ان کے پاس ضروری دفاعی نظام موجود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی فوج کو ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے مرحلے یعنی انہیں بروقت تلاش اور شناخت کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی شمالی کمانڈ کے نائب کمانڈر جنرل جوزف جیرارڈ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے اندر موجود فوجی اڈوں میں چھوٹے ڈرونز کے بڑے پیمانے پر حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری تیاری اور سازوسامان موجود نہیں ہے۔

فاکس نیوز کے مطابق، امریکی فوجی اڈوں کی یہ کمزوری صرف ڈرونز کو مار گرانے تک محدود نہیں بلکہ ان کی بروقت شناخت اور نگرانی کے مرحلے سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔

جوزف جیرارڈ، جو شمالی امریکی ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (NORAD) میں بھی امریکی افواج کے نائب کمانڈر ہیں، نے جمعرات کو سالانہ اسپیس اینڈ میزائل ڈیفنس سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض امریکی فوجی اڈوں پر حملہ آور ڈرونز کے جتھوں کو تلاش اور ٹریک کرنے کے لیے ضروری سینسرز اور ان سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ ہتھیار تک موجود نہیں ہیں۔

فاکس نیوز کے تجزیے کے مطابق یہ صورتحال پینٹاگون کی جانب سے ڈرونز کے خلاف دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے تیزی سے کی جانے والی کوششوں اور اس وقت امریکی فوجی تنصیبات کو حاصل حقیقی دفاعی تحفظ کے درمیان موجود بڑے خلا کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کم قیمت والے یک طرفہ حملہ آور ڈرونز نے مشرق وسطیٰ سمیت مختلف جنگی محاذوں پر جنگ کے روایتی طریقۂ کار اور طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔

امریکی جنرل نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ امریکی فوج اس نوعیت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اس وقت مناسب تیاری اور ضروری وسائل نہیں رکھتی، حالانکہ دنیا کے مختلف علاقوں میں ان ڈرونز کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مؤثر راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

اس سے قبل امریکی شمالی کمانڈ کے سربراہ جنرل گریگوری گیلوٹ بھی ڈرونز کے خطرے پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جنوبی سرحد پر تعینات فوجی اہلکاروں کے پاس ڈرونز سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ سامان کافی مقدار میں موجود نہیں ہے۔

اس صورتحال کے بعد پینٹاگون نے اس دفاعی خلا کو پُر کرنے کے لیے ڈرونز، ڈرون شکن ہتھیاروں، گولہ بارود اور دیگر متعلقہ صلاحیتوں کی تیاری و فراہمی کے لیے 21 ارب ڈالر کی غیر معمولی رقم مختص کرنے کی درخواست کی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha