اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اردن میں نئے قوانین کی منظوری اور ان پر پارلیمانی بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک کو معاشی مشکلات، مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور خطے کی تشویش ناک صورتِ حال کا سامنا ہے۔
حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کے مقاصد اور تفصیلات پر عوام اور سیاسی جماعتوں سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے پارلیمان میں بھی حکومت کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ حالیہ اجلاس میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب بعض ارکان نے حکومت کو ملک پر اضافی بوجھ قرار دیا اور وزیرِ بلدیاتی امور سے وضاحت طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔
اردنی رکنِ پارلیمان عبدالناصر الخصاونہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات سے اسلامی جماعت ’’امت‘‘ فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس جماعت کا پارلیمانی دھڑا عوامی مطالبات کی حمایت کرنے والی سیاسی قوت کے طور پر زیادہ نمایاں ہو رہا ہے اور اسی وجہ سے اسے عوامی سطح پر دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری ذرائع ابلاغ میں زیادہ تر ان ارکانِ پارلیمان اور کمیٹیوں کے سربراہان کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جا رہا ہے جو نئے قوانین کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے حکومت کا مؤقف تو نمایاں ہوتا ہے لیکن مخالف آوازوں کو مناسب جگہ نہیں مل رہی۔
نئے جائیداد ملکیتی قانون کی منظوری کے بعد بھی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ بعض ارکانِ پارلیمان نے اس قانون کی آئینی حیثیت، اراضی کی منتقلی اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ناقدین کے مطابق اس مرتبہ تنقید صرف حکومت کی کارکردگی تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض سیاسی اور سماجی شخصیات نے ملک کے مجموعی نظامِ حکمرانی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے بقول یہ صورتِ حال حکومتی پالیسیوں اور اردن کے معاشرے کے بعض طبقات کے مطالبات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی نشاندہی کرتی ہے۔
آپ کا تبصرہ