8 مئی 2026 - 10:27
حصۂ اول | غیر متناسب جنگ میں مدلل امریکی شکست

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک تحقیقی مضمون میں امریکی فوج کے کم از کم 228 کلیدی ڈھانچوں اور آلات کو پہنچنے والے غیر معمولی نقصان یا تباہی کی سیٹلائٹ تصاویر شائع کی ہیں، جنہیں اسلامی جمہوریہ ایران نے تیسری مسلط کردہ جنگِ (یا جنگ رمضان) میں نشانہ بنایا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اس رپورٹ کے مطابق، ایران کے طاقتور میزائل اور ڈرون حملوں میں ہینگروں، سپاہیوں کے کوارٹروں، ایندھن کے ذخائر، جنگی طیاروں اور جدید دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس مضمون کے قابلِ غور عناصر یہ ہیں:

الف: سنسرشپ اسٹراٹیجی کی ناکامی:

سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی دو بڑی کمپنیوں (Vantor اور Planet) نے امریکی حکومت کی درخواست پر جنگی علاقے کی اعلیٰ معیار کی تصاویر کی اشاعت کو محدود کر دیا ہے یا پھر روک رکھا ہے تاکہ نقصان کی تمام جہتیں پوشیدہ رہیں۔

ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر اور یورپی یونین کے سیٹلائٹ نظام (Copernicus) کی تصاویر کی تطبیق سے معلوم ہؤا کہ پینٹاگون نے "نقصان کو چھوٹا دکھانے" کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے؛ جس سے معلوم ہتا ہے کہ سیٹلائٹ کے دور کی معلوماتی شفافیت امریکہ کے لئے خاص طور پر چیلنج بنی ہوئی ہے۔

ب: ایران کے میزائلوں کی اعلیٰ درستگی:

فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ حملے بہت دقیق اور درست تھے اور تصاویر میں "غلطی کی وجہ سے بننے والا کوئی حادثاتی گڑھا" نظر نہیں آتا، جو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی اعلیٰ درستگی کو ظاہر کرتا ہے۔

228 کلیدی مقامات کو نشانہ بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی دفاعی رکاوٹوں کو مضبوطی سے عبور کرلیا ہے؛ جبکہ ان دفاعی نظامات کی تشہیر پر برسوں سے کھربوں ڈالر خرچ کئے جاتے رہے تھے؛ اور یوں ثابت ہو چکا ہے کہ امریکی "دھونس" کا دور ختم ہو چکا ہے؛ اور ایران کی طاقت کے سامنے ٹھکنا اب غاصبوں اور قابضوں کے لئے ممکن نہیں ہے۔

ج: نقصان کی وسعتیں:

واشنگٹن پوسٹ کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 217 ڈھانچے اور 11 کلیدی آلات (بشمول تھاڈ اور پیٹریاٹ دفاعی نظامات کے ریڈاروں) کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سب سے زیادہ نقصان بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور کویت کے تین اڈوں (بشمول عریفجان کیمپ اور علی السالم) میں ہؤا ہے۔

پرانے اڈوں کو خالی کرنا اور کمان کو امریکی سرزمین (فلوریڈا) میں منتقل کرنا اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ خلیج فارس کے علاقے میں مستقبل امریکی فوجی اڈے مزید "اسٹراٹیجک اثاثہ" نہیں رہے، بلکہ "زد پذیر اہداف" بن چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ڈاکٹرحسن عابدینی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha