1 فروری 2026 - 10:16
مآخذ: ابنا
یورپ بھر میں دسیوں ہزار افراد کی فلسطین کے حق میں ریلیاں، اسرائیلی حملوں کے خلاف شدید احتجاج

فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یورپ کے مختلف ممالک میں دسیوں ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل کی مذمت کی اور یورپی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنا فوری طور پر بند کریں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یورپ کے مختلف ممالک میں دسیوں ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل کی مذمت کی اور یورپی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنا فوری طور پر بند کریں۔

ہفتے کے روز لندن میں ہزاروں فلسطین حامی مظاہرین نے رسل اسکوائر میں جمع ہو کر وائٹ ہال کی جانب مارچ کیا، جہاں برطانوی وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ ڈاؤننگ اسٹریٹ نمبر 10 سمیت اہم سرکاری دفاتر واقع ہیں۔

یہ قومی سطح کی ریلی مظاہرین کے مطابق فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی جاری نسل کشی کے خلاف منعقد کی گئی۔ شرکاء نے غزہ میں جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی اور برطانوی حکومت پر اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے پر کڑی تنقید کی۔

مظاہرین فلسطینی پرچم اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، جن پر اسرائیل مخالف اور برطانوی حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکام، سرکاری ادارے اور کمپنیاں اسرائیل کی ان کارروائیوں کی حمایت بند کریں جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

اس ریلی میں برطانوی پارلیمنٹ کی اراکین زہرا سلطانہ اور جان مکڈونل کے علاوہ غزہ میں خدمات انجام دینے والے برطانوی نژاد فلسطینی ڈاکٹر غسان ابوستہ بھی شریک ہوئے۔

ریلی کے دوران اسرائیل کے حامی مظاہرین کے ایک چھوٹے گروہ نے اسرائیلی اور برطانوی پرچم اٹھا کر احتجاجی مارچ میں خلل ڈالنے اور اشتعال انگیزی کی کوشش کی۔

دوسری جانب سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں بھی سیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ اوڈن پلان اسکوائر میں متعدد سول سوسائٹی تنظیموں کے اہتمام سے منعقد ہوا، جس میں غزہ پر اسرائیلی حملوں اور انسانی امداد پر عائد پابندیوں کے خلاف آواز بلند کی گئی۔

مظاہرین نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ 10 اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کو محدود کر رہا ہے۔

مظاہرین نے اسرائیلی حملوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا اور سویڈش حکومت سے بھی اسرائیل کو اسلحہ فروخت نہ کرنے کی اپیل کی۔

سویڈن کے سماجی کارکن لاسے آڈسٹڈٹ نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔

واضح رہے کہ غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق، اکتوبر کے اوائل میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 524 فلسطینی شہید اور 1360 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل نے 1450 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha