18 مارچ 2010 - 20:30

اہل تشیع کے خلاف دہشت گردوں کی تشدد آمیز کاروائی کے بعد کراچی میں مشکوک افراد نے کئی مارکیٹوں کو آگ لگا دی تھی اور سیاسی جماعتوں نے آگ لگانے کی کاروائی میں بھی طالبان کو ملوث قرار دیا تھا مگر پولیس نے ان واقعات کے عاملین کی گرفتاری کے بہانے 40 بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو پابند سلاسل کردیا ہے.

کراچی سے اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے نمائندے کے مطابق تاسوعا اور عاشورا کے دوران اہل تشیع کے ماتمی جلوسوں پر بم حملے کئے گئے جن میں دسیوں عزاداران نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے اور جب اہالیان کراچی شام غریبان منارہے تھے کراچی کے مختلف بازاروں کو مشکوک قوتوں کی ایما پر آگ لگادی گئی جس میں کئی مارکیٹوں کو زبردست نقصان پہنچا اور ایم کیو ایم کے قائدین سمیت شیعہ اور سنی جماعتوں نے اس واقعے کو مشکوک قرار دیا جبکہ ایم کیو ایم نے اعلان کیا کہ مارکیٹوں کو آگ لگانے میں بھی طالبان ملوث ہیں.

تاہم پاکستانی پولیس نے عزاداروں کے قاتلوں اور شہر میں ناامنی پھیلانے والے عناصر کی گرفتاری کی بجائے 40 شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کی جبکہ پولیس ان واقعات میں شیعہ نوجوانوں کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں پیش کرسکی ہے.

بہر حال گرفتار نوجوانوں میں سے 26 کو بعد میں رہا کردیا گیا جبکہ 14 بے گناہ افراد ابھی تک زیر حراست ہیں.

- شیعہ طالبات کا احتجاجی مظاہرہ

کراچی دھماکہ:کالعدم تحریک طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی
اسلام آباد:کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کراچی خود کش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ، ٹی ٹی پی کے کمانڈر عصمت اللہ شاہین نے حملے کی تصدیق کی، غیرملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک طالبان کے کمانڈر عصمت اللہ شاہین نے کہا کہ کراچی میں دسویں محرم کے دن جلوس میں خود کش حملہ ہم نے کرایا اور حملہ آور کا نام حسنین معاویہ تھا نجی ٹی وی نے خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر عصمت اللہ شاہین نے کراچی خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور مستقبل میں بھی ایسے حملے جاری رہیں گے ۔ عصمت اللہ شاہین نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے ۔ ہمارا نشانہ صرف ٹارگٹ ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ عصمت اللہ شاہین کچھ عرصہ قبل تحریک طالبان میں شامل ہوئے ہیں اور بیت اللہ محسود گروپ کا حصہ ہیں ۔ آپریشن راہ نجات میں اسی گروپ کو نشانہ بنایا گیا اور جن جن علاقوں پر ان کا قبضہ تھا وہ علاقے واگزار کرا لئے گئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق بیت اللہ محسود گروپ کے کمانڈر پہاڑوں اور غاروں میں چھپے ہوئے ہیں اور وہیں سے کمانڈ کررہے ہیں نجی ٹی وی نے یہ بھی بتایا کہ بیت اللہ محسود گروپ کا کچھ حصہ اہل تشیع کے خلاف ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس دھماکے کی کڑیاں اسی سلسلے سے ملتی ہوں ۔
درین اثناء:
کراچی دھماکوں میں تحریک طالبان ملوث نہیں،ترجمان       
تحریکِ طالبان پاکستان نے کراچی دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔تفصیل کے مطابق تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان نے گزشتہ روز ایک کمانڈر کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ تحریکِ طالبان کے ترجمان اعظم نے طارق نے غیر ملکی ٹی وی سی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالب کمانڈر عصمت اللہ شاہین نے ہوسکتا ہے یہ ذمہ داری اپنے گروپ کی طرف سے قبول کی ہو البتہ تحریکِ طالبان کی مرکزی قیادت کا اس بیان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کراچی کا حملہ انہوں نے نہیں کیا ہے کیونکہ ان کی تنظیم کا فرقہ ورانہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ عصمت اللہ شاہین نے ذمہ داری قبول کرتے وقت ان سے کوئی مشاورت نہیں کی تھی اور اس سلسلے میں ان سے باز پرس کی جائے گی جس کے بارے میں آئندہ میڈیا کو تفصیلات فراہم کردی جائیں گی۔