15 جون 2009 - 19:30

زرداری کے نام خط: پاکستان القاعدہ اور طالبان کے خلاف کار روائی میں مزید وسعت لائے؛ افغانستان کے حوالے سے نئی امریکی حکمت عملی تب کامیاب ہو سکتی ہے جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف مہم مزید موثر بنائے!

امریکا کے صدرباراک اوباما نے کہا ہے کہ القاعدہ کے ارکان افغانستان سے فرار ہوکر پاکستان میں ہیں اور بدستور امریکا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔۔ چین کے شہر شنگھائی میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے بارک اوباما نے کہا کہ امریکا کی سلامتی کوسب سے بڑا خطرہ بدستور القاعدہ جیسے دہشت گردگروہوں سے ہے۔ دہشتگرد افغانستان کی سرحد پار کرکے پاکستان چلے گئے ہیں اور اب وہاں موجود ہیں لیکن خطے میں دوسرے انتہا پسند گروپوں سے ان کے رابطے برقرار ہیں، ان دہشت گرد گروپوں کی عددی قوت کم ہے لیکن یہ بہت خطرناک ہیں ان کا کوئی ضمیر نہیں اور یہ لاکھوں افراد کو ہلاک کر سکتی ہیں ۔ اس لئے افغانستان میں استحکام انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ چین کا ذکر کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ امریکی حکومت ایک چین کی پالیسی کی حمایت کرتی ہے ۔ انہوں نے چین اور تائے وان کے درمیان تعلقات میں بہتری کو سراہا اور کہا کہ امریکا دونوں ملکوں کے درمیان تناؤکم کر نے کا خواہشمند ہے ۔صدر اوباما نے چین کو عظیم الشان ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات دنیا کو مزید محفوظ اور اور پر امن بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ 

درین اثناء اوباما نے خط لکھ کر زرداری کو Do More  کے نئے احکامات جاری کئے ہیں

انھوں نے لکھا ہے: پاکستان القاعدہ اور طالبان کے خلاف کار روائی میں مزید وسعت لائے؛ افغانستان کے حوالے سے نئی امریکی حکمت عملی تب کامیاب ہو سکتی ہے جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف مہم مزید موثر بنائے

وعدہ! پاکستان کو فوجی دائرہ کار بڑ ھانے کے بدلے خفیہ معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔

امید! امید ہے صدر زرداری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی اداروں اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے

امریکی صدر کا خط قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز کے دورہ پاکستان کے دورے کے دوران  زرداری کے حوالے کیا گیا ہے ، نیویارک ٹائمز

امریکی صدر باراک اوبامہ نے صدر آصف علی زرداری کے نام ایک خط میں پیغام دیا ہے کہ پاکستان القاعدہ اور طالبان کے خلاف کار روائی میں مزیدوسعت لائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید ٹھوس اور موثر اقدامات کرے۔ امریکی اخبار ’’ نیویارک ٹائمز ‘‘ نے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر کا یہ خط امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران صدر آصف علی زرداری کے حوالے کیا ہے ۔ خط میں امریکی صدر کی طرف سے زور دیا گیا ہے کہ افغانستان سے متعلق نئی امریکی حکمت عملی اس صورت کامیاب اور موثر ہو سکتی ہے اگر پاکستان دہشت گردوں کے خلاف مہم کو مزید موثر بنائے کہ خط میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکمت عملی کی کامیابی کا دارو مدار پاکستان کی اس پیشرفت سے منسلک ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو فوجی آپریشن کا دائرہ کار بڑ ھانے کے بدلے خفیہ معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ بھرپور فوجی تعاون کیا جائے گا۔ خط میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ صدر آصف علی زرداری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی اداروں اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

___

آیت الله العظمی خامنہ‏ای فرماتے ہیں: تم جب امریکہ کی ایک بات مانوگے تو اسے دوسری بات یاد آئے گی اور دوسری کے بعد تیسری؛ اور امریکہ کے مطالبات کبھی رکنے والے نہیں ہیں اور ان مطالبات متوقف ہونے کی خاص حد نہیں ہے۔

آپ فرماتے ہیں: ہم امریکہ کے ساتھ بھیڑ اور بھیڑیئے والے تعلقات نہیں چاہتے.