اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متکی نے ، کہ جو ڈی ایٹ کے رکن ممالک کے وزراۓ خارجہ کے بارہویں اجلاس میں شرکت کی غرض سے ملائیشیاء کے دورے پر ہیں ، نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ویانا میں جو ایٹمی مذاکرات انجام پاۓ ان کا تعلق صرف تہران کے ایٹمی ری ایکٹر کو ایندھن کی فراہمی سے تھا اور دوسرے ری ایکٹروں کے لۓ یورینیئم کی افزدوگی اور ضروری ایندھن کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر خارجہ منوچہر متکی نے اپنے ان بیانات میں ، کہ جن کو عالمی ذرائع ابلاغ نے بھر پور کوریج دی ، اس بات پر تاکید کی کہ ایران ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی تجویز کا فنی اور تکنیکی اعتبار سے جائزہ لے رہا ہے اور اس مسئلے پر اتفاق کی صورت میں ہی ایران اپنی افزدوہ یورینیئم کا کچھ حصہ دے گا اور اس کے بدلے میں بیس فیصد سطح تک افزودہ یورینیئم حاصل کرے گا۔ دریں اثناء وزیر خارجہ منوچہر متکی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی ایندھن کی خریداری کو اصل آپشن جانتا ہے حالانکہ فنی اور تکنیکی اعتبار سے ہم اپنے ملک کے اندر بھی بیس فیصد سطح تک یورینیئم کی افزدوگی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران نے ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی کی جانب سے پیش کی جانے والی تجویز سے متعلق اپنے جواب سے اس ایجنسی کو آگاہ کردیا ہے۔ اور اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ اس کی بنیاد پر ایک فنی کمیشن تشکیل دیا جاۓ گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب منوچہر متکی نے مزید کہا کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی فنی کمیٹی میں شریک اراکین نے اس بات کو بیان کیا کہ ایران کے مطالبات اور شرائط مد نظر رکھے جانے کے لۓ ضروری ہے کہ تکنیکی مذاکرات کے نۓ مرحلے کا آغاز کیا جاۓ ۔ جناب منوچہر متکی نے اس بات کو بیان کرتے ہوۓ کہ ایران کے مد نظر امور مکمل طور پر فنی اور اقتصادی ہیں کہا کہ ایران کے مفادات کا ہر صورت میں خیال رکھا جانا ضروری ہے اور مذاکرات کے اگلے دور میں ایران کے مطالبے پیش کۓ جائيں گے اور پھر ان کے بارے میں حتمی فیصلہ سامنے آۓ گا۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 171106
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متکی نے کہا ہے کہ ویانا ایٹمی مذاکرات کا تعلق صرف تہران کے ایٹمی ری ایکٹر کو ایندھن کی فراہمی سے تھا۔