15 جون 2009 - 19:30

ترجمان دفتر خارجہ عبد الباسط نے امریکی نائب سفیر کی پریس کانفرنس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کرے.

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ القاعدہ قیادت ملا عمر اور دیگر طالبان قیادت کی پاکستان میں موجودگی محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں امریکہ کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ پاکستان کو فراہم کرے امریکہ کو بارہا سمجھایا ہے کہ وہ ایسے بیانات سے گریز کرے ایسے بیانات سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ پاکستان کی اطلاعات کے مطابق اسامہ بن لادن زندہ نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار دفتر خارجہ عبد الباسط نے پاکستان میں نائب امریکی سفیر کی جانب سے ملا عمر اور دیگر طالبان لیڈروں کی کوئٹہ میں موجودگی کے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ پاکستان کو فراہم پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر قسم کی کاروائی کے لیے تیار ہے ۔ عبد الباسط نے کہا کہ امریکہ نے یہ بیان کیوں دیا ہے اس بارے میں امریکہ سے پوچھتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ کوئی طالبان لیڈر پاکستا ن کسی حصے میں موجود نہیں اگر امریکہ کے پاس پاکستان میں طالبان لیڈروں کی موجودگی کی کوئی خفیہ رپورٹس ہیں تو پاکستان سے شیئر کرے پاکستان خود کاروائی کرے گا۔انھوں نے کہا کہ اگر القاعدہ کی قیادت پاکستان میں موجود ہوتی تو اس کے خلاف ضرور کاروائی کرتے ہمیں پاکستانی حدود میںڈرون حملے قبول نہیں ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھر پور کاروائیاں کر رہا ہے اگر کسی کے پاس القاعدہ قیادت کی پاکستان میں موجودگی کے ثبوت ہیں تو فراہم کرے۔