اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حکمت اورفلسفہ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ حجة الاسلام عبدالحسین خسرو پناہ نے اسلامی ریسرچ تمدن نامی پہلے سیمینارکی افتتاحی تقریب سےخطاب کرتے ہوئےکہا ہےکہ اس وقت اسلامی معاشروں کو دوعظیم فتنوں کا سامنا ہے کہ جن میں سے ایک تکفیری فتنہ ہےکہ جو مختلف گروہوں کو شامل ہے اوردوسرا فتنہ بعض افراد کا اسلامی انقلاب کے محاذ سے نکل کر سیکولرکی عقلانیت کی جانب جانا ہے۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ تکفیری فتنہ ایک بین الاقوامی فتنہ ہےکہ جس نے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اورمسلمان ایک دوسرے کی تکفیر کررہے ہیں اوراس کے نتیجے میں بہت سے افراد مارے جارہے ہیں۔ اندرونی فتنے میں وہ لوگ شامل ہیں کہ جو اسلامی انقلاب کے محاذ سے نکل کر سیکولر کی عقلانیت کی جانب جارہے ہیں کہ عنقریب کچھ اورافراد کا انجام بھی یہی ہوگا لیکن اسلامی انقلاب محاذ اسلامی عقلانیت کا عقیدہ رکھتا ہے۔
حجة الاسلام خسروپناہ نےکہا ہےکہ ان دو عظیم فتنوں کا مقابلہ کرنےکے لیے تین مختلف نقطہ نظرات موجود ہیں۔ ایک نقطہ نظریہ ہے کہ ان میں سے ہرایک فتنے سے آگاہی حاصل کرکے اسے حل کرنا چاہیے۔ دوسرا نقطہ نظر جامع اورکلی نقطہ نظر ہے اورتیسرا نقطہ نظر جامع نقطہ نظرکے تحت اس کے اجزاء کو دیکھ کر کلی طورپران کا جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ بعض کہتے ہیں کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ اتنی زیادہ اندرونی اورخارجی مشکلات کے باوجود ایرانی معاشرہ ایک نئے تمدن کوتشکیل دے سکے؟جی ہاں ممکن ہے۔ اگرہم چین،بین النہرین،مصر،ایران قدیمی،ایران اسلامی اورموجودہ ماڈرن تمدنوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہم متوجہ ہوں گے کہ انہوں نے متعدد بحرانوں سے گذرکران تمدنوں کو تشکیل دیا تھا۔ لہذا تم کس طرح توقع رکھتےہوکہ مشکلات کے بغیرہم اسلامی تمدن تک پہنچ جائیں؟
انہوں نے مشکلات کی موجودگی کو ہرتمدن کا لازمہ قراردیتے ہوئےکہا ہےکہ اگرہم مشکلات کا سامنا نہ کریں تو ہم کسی بھی تمدن تک نہیں پہنچ سکتےہیں اورہمارے ملک کے اندرموجود صلاحیتوں کےپیش نظرہم ایک اسلامی تمدن پرپہنچ جائیں گے؛ اگرہم اس نقطہ نظرسے اجزاء کی طرف نگاہ کریں تو ہم اپنی مشکلات کو کم سے کم کرسکتے ہیں۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ جب ہم اسلامی تمدن کی بات کرتے ہیں تو ہم کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم ایک عالمی عدل قائم کریں گےکیونکہ یہ کام حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے مبارک ہاتھوں سےمتحقق ہوگا لیکن ہمیں اس ظہورکی راہ ہموارکرنی چاہیے تاکہ تمام لوگ آنحضرت علیہ السلام کےظہورکو دل وجان سے قبول کریں۔
حجة الاسلام خسروپناہ نےکہا ہے کہ ہرتمدن کے چاربنیادی رکن ہیں کہ جو تفکر،علم ودانش،سسٹمز اورطرززندگی کو شامل ہیں اوران ارکان کی کچھ ذیلی شاخیں ہیں۔ پہلی شاخ تفکرفلسفہ ہے،دوسری یونیورسٹیز اورحوزہ ہائےعلمیہ کےعلوم،سسٹمز کی ذیلی شاخیں سماجی،سیاسی اورمعاشی سسٹمز اورطرززندگی کی ذیلی شاخیں کرداراوراعمال ہیں کہ جن کا معاشرے میں مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
.......
/169