اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق تہران میں اپنے آرمینیائی ہم منصب ایڈورڈو نعلبندیان سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ بینکاری لین دین کے آغاز کے لیے ابتدائی اقدامات انجام پا چکے ہیں لیکن امریکہ کو چاہیے کہ وہ ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات انجام دے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جامع ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے عمل کا پوری گہرائی کے ساتھ جائزہ لے رہا ہے۔
وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے باہمی تعلقات کے فروغ اور خطے میں امن و سلامتی کی تقویت کے لیے ایران اور آرمینیا کے درمیان صلاح و مشورے کا عمل جاری رکھے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور آرمینیا گیس، بجلی اور ریلوے کے شعبوں میں خطے کے تمام ملکوں کے ساتھ مل کر کثیر فریقی منصوبوں پرعملدرآمد کر سکتے ہیں۔
آرمینیا کے وزیر خارجہ ایڈورڈو نعلبندیان نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ توانائی اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے قرہ باغ کے بحران میں ایران کے مثبت کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ایک بڑے ملک کی حثیت سے ایران، علاقائی معاملات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایڈورڈو نعلبندیان نے مزید کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف عالمی پابندیوں کے خاتمے کا خیرمقدم کرتا ہے اور وہ تہران کے ساتھ بینکاری لین دین کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169